کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے اللہ کے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو "صنیبر" اور "منبتر" کہا
حدیث نمبر: 6572
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ كَعْبُ بْنُ الأَشْرَفِ مَكَّةَ أَتَوْهُ ، فَقَالُوا : نَحْنُ أَهْلُ السِّقَايَةِ وَالسِّدَانَةِ ، وَأَنْتَ سَيِّدُ أَهْلِ يَثْرِبَ ، فَنَحْنُ خَيْرٌ أَمْ هَذَا الصُّنَيْبِيرُ الْمُنْبَتِرُ مِنْ قَوْمِهِ يَزْعُمُ أَنَّهُ خَيْرٌ مِنَّا ؟ ، فَقَالَ : أَنْتُمْ خَيْرٌ مِنْهُ ، فَنَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ سورة الكوثر آية 3 ، وَنَزَلَتْ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلا سورة النساء آية 51 " .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم چھ آدمی تھے۔ مشرکین نے کہا: ان لوگوں کو اپنے سے دور کر دیں یہ لوگ ایسے ہیں اور ویسے ہیں (راوی کہتے ہیں:) میں تھا، عبداللہ بن مسعود تھے۔ ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا بلال تھے اور دو آدمی اور تھے جن میں سے میں ایک کو بھول چکا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بارے میں جو اللہ کو منظور تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن میں خیال آیا اور آپ نے اسے اپنے ذہن میں اسے سوچا (کہ ہم لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ” اور تم ان لوگوں کو پرے نہ کرو جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں اور وہ صرف اس کی رضامندی چاہتے ہیں “ یہ آیت یہاں تک ہے ظلم کرنے والے۔ “