کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ ابو جہل نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر پاؤں رکھنے کا ارادہ کیا
حدیث نمبر: 6571
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ فَبِالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، لأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ ، قَالَ : فَمَا فَجَأَهُمْ إِِلا أَنَّهُ يَتَّقِي بِيَدِهِ ، وَيَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ ، فَأَتَوْهُ ، فَقَالُوا : مَا لَكَ يَا أَبَا الْحَكَمِ ؟ ! قَالَ : إِِنَّا بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلا وَأَجْنِحَةً ، قَالَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى سورة العلق آية 9 - 10 ، إِِلَى آخِرِهِ ، فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سورة العلق آية 17 ، قَالَ قَوْمُهُ : سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ سورة العلق آية 18 ، قَالَ الْمَلائِكَةُ : لا تُطِعْهُ سورة العنكبوت آية 8 ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ مِنَ السُّجُودِ فِي آخِرِ السُّورَةِ ، قَالَ : فَبَلَغَنِي عَنِ الْمُعْتَمِرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ دَنَا مِنِّي لاخْتَطَفَتْهُ الْمَلائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب (یہودیوں کا سردار) کعب بن اشرف مکہ آیا تو لوگ اس کے پاس آئے اور بولے: ہم سقایہ کو سدانہ کی خدمات سرانجام دیتے ہیں اور آپ اہل یثرب کے سردار ہیں۔ ہم زیادہ بہتر ہیں یا یہ صاحب زیادہ بہتر ہیں جو اپنی قوم سے لاتعلق ہو چکے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بہتر ہیں تو کعب بن اشرف نے کہا: تم لوگ ان سے بہتر ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل کی۔ ” بے شک تمہارے دشمن کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ “ اور یہ آیت نازل ہوئی: ” کیا تم نے ان لوگوں کی طرف دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ دیا گیا لیکن وہ پھر بھی جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں سے کہتے ہیں کہ وہ لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو ایمان لائے۔ “