کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ مشرکین نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ان کی چادر ڈالی جب وہ اپنے رب جل وعلا کی رسالت پہنچا رہے تھے
حدیث نمبر: 6569
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا أَرَادُوا قَتْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلا يَوْمًا رَأَيْتُهُمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَقَامَ إِِلَيْهِ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَجَعَلَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِهِ ، ثُمَّ جَذَبَهُ حَتَّى وَجَبَ لِرُكْبَتَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَصَايَحَ النَّاسُ ، فَظُنُّوا أَنَّهُ مَقْتُولٌ ، قَالَ : وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْتَدُّ حَتَّى أَخَذَ بِضَبْعَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَائِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَتَقْتُلُونَ رَجُلًَا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ؟ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، مَرَّ بِهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أُرْسِلْتُ إِِلَيْكُمْ إِِلا بِالذَّبْحِ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِِلَى حَلْقِهِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا كُنْتَ جَهُولا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے آپ کے اردگرد کچھ لوگ موجود تھے۔ اسی دوران عقبہ بن ابومعیط ایک (اونٹ کی) اوجھ لے کر آیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر نہیں اٹھایا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اسے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اس کے خلاف دعائے ضرر کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ ” اے اللہ قریش کے کچھ افراد کو اپنی گرفت میں لے۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عقبہ بن ابومعیط، امیہ بن خلف (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابی بن خلف “ یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے۔ “ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر میں نے ان سب لوگوں کو دیکھا کہ ان کی (لاشوں کو) ایک کنویں میں ڈال دیا گیا۔ صرف اُمیہ کو نہیں ڈالا گیا کیونکہ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ اسے کنویں میں نہیں ڈالا گیا۔