کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کے قیام میں اس ایذاء کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے زمانے میں کسی بشر کو نہ ہوا
حدیث نمبر: 6560
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلاثٌ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي طَعَامٌ إِِلا مَا وَارَاهُ إِِبِطُ بِلالٍ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: کیا آپ پر کوئی ایسا دن بھی آیا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے تمہاری قوم کی طرف سے جس سب سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا وہ عقبہ کے دن تھی۔ جب میں نے ابن عبدیالیل بن کلال کو (اسلام کی) دعوت دی تو میری جو خواہش تھی اس نے اس کے مطابق مجھے جواب نہیں دیا۔ میں پریشانی کے عالم میں جا رہا تھا میں نے اپنا سر اٹھایا تو وہاں ایک بادل نے مجھ پر سایہ کیا ہوا تھا۔ جب میں نے جائزہ لیا تو اس میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام موجود تھے۔ انہوں نے مجھے بلند آواز میں کہا: اور بولے: آپ کی قوم نے جو آپ کو جواب دیا ہے: اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے اور انہوں نے جو ردعمل ظاہر کیا ہے (وہ دیکھ لیا ہے) اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ کی طرف بھیجا ہے۔ آپ ان لوگوں کے بارے میں اسے جو چاہیں حکم دیدیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو پہاڑوں کے فرشتے نے مجھے مخاطب کیا اس نے مجھ پر سلام بھیجا اور پھر بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم نے آپ کو جو کہا: ہے اللہ تعالیٰ نے اس سن لیا میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ آپ کے پروردگار نے مجھے آپ کیا طرف بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنی مرضی کے مطابق حکم دیں اگر آپ چاہیں تو میں یہ پہاڑ ان پر الٹ دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جی نہیں) مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں میں سے ان لوگوں کو پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔