کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی زہیر کو خط لکھا
حدیث نمبر: 6557
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ : كُنَّا بِالْمِرْبَدِ ، فَإِِذَا أَنَا بِرَجُلٍ أَشْعَثَ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ ، فَقُلْنَا لَهُ : كَأَنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ؟ قَالَ : أَجَلْ ، فَقُلْنَا لَهُ : نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الأَدِيمِ الَّتِي فِي يَدِكَ ، فَأَخْذَنَاهَا ، فَقَرَأْنَا مَا فِيهَا ، فَإِِذَا فِيهَا : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِِلَى بَنِي زُهَيْرٍ ، أَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ " ، قَالَ : فَقُلْنَا : مَنْ كَتَبَ لَكَ هَذَا ؟ ، قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : قُلْنَا : مَا سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْنَا : مَا سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصُّدُورِ " ، فَقُلْنَا لَهُ : أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! فَقَالَ : أَلا أَرَاكُمْ تَتَّهِمُونِي ، فَوَاللَّهِ لا أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ ذَهَبَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا النَّمِرُ بْنُ تَوْلَبٍ الشَّاعِرُ .
سیدنا یزید بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ کھجور سکھانے کی جگہ پر موجود تھے۔ وہاں ایک شخص آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ ہم نے اس سے کہا: تم کوئی دیہاتی محسوس ہوتے ہو۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں ہم نے اس سے کہا: یہ چمڑے کا ٹکڑا ہمیں پکڑاؤ جو تمہارے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے اسے حاصل کیا اور اس میں موجود عبارت کو پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا۔ ” (یہ مکتوب) اللہ کے رسول سیدنا محمد کی طرف سے بنو زہیر کی طرف ہے تم لوگ مال غنیمت میں سے خمس ادا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخصوص حصہ اور خاص حصہ ادا کرو، تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کی امان کے مطابق امن میں رہو گے۔ “ راوی کہتے ہیں: ہم نے (اس دیہاتی سے) دریافت کیا: یہ خط تمہیں کس نے لکھ کر دیا تھا؟ اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول نے، ہم نے دریافت کیا: کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بھی کوئی بات سنی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” صبر کے مہینے (یعنی رمضان کے مہینے) کے روزے رکھنا اور ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنا، سینوں کے غضب (یا کینے) کو رخصت کر دیتا ہے۔ “ ہم نے اس شخص سے دریافت کیا: کیا تم نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ اس نے کہا: تم لوگوں کے بارے میں، میں یہ گمان نہیں کر رہا تھا کہ تم مجھ پر الزام عائد کرو گے۔ اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کوئی حدیث نہیں سناؤں گا پھر وہ شخص چلا گیا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ شخص نمبر بن تولب تھا جو شاعر تھا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ شخص نمبر بن تولب تھا جو شاعر تھا۔