کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا
حدیث نمبر: 6552
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ عُمَرَوٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَلَسْنَا إِِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ يَوْمًا ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ ، فَاسْتُغْضِبَ ، فَجَعَلَتْ أَعْجَبُ ، مَا قَالَ إِِلا خَيْرًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِِلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مُحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ ، لا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ ، وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ ، أَوَلا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِِذْ أَخْرَجَكُمْ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ ، مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ كُفِيتُمُ الْبَلاءَ بِغَيْرِكُمْ ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ ، وَفَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دَيْنًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الأَوْثَانِ ، فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ ، حَتَّى إِِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَلَدَهُ أَوْ وَالِدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا ، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلإِِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ ، فَلا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ ، وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ : الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ سورة الفرقان آية 74 " .
عبدالرحمن بن جبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک دن ہم لوگ سیدنا مقداد بن اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا اور بولا: ان دو آنکھوں کے لئے مبارک ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے اللہ کی قسم! ہماری تو یہ خواہش ہے کہ جن کی زیارت آپ نے کی ہے ہم نے بھی ان کی زیارت کی ہوتی جن کے ساتھ آپ رہے ہیں ہم بھی ان کے ساتھ رہے ہوتے تو اس پر وہ غصے میں آ گئے۔ میں اس پر بہت حیران ہوا کیونکہ اس شخص نے تو اچھی بات کہی تھی۔ سیدنا مقداد بن اسود اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: کسی شخص کو کون سی بات اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اس صورت حال کے رونما ہونے کی آرزو کرے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس سے پوشیدہ رکھا ہے۔ یہ شخص نہیں جانتا کہ اگر یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود ہوتا تو اس کی کیا صورت حال ہوتی۔ اللہ کی قسم! کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے لیکن اللہ تعالیٰ انہیں نتھنوں کے بل جہنم میں داخل کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا۔ آپ کی تصدیق نہیں کی۔ کیا تم لوگ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتے کہ اس نے جب تمہیں پیدا کیا تو تم اپنے پروردگار کی معرفت رکھتے ہو۔ تمہارے نبی جو کچھ لے کہ آئے تم لوگ اس کی تصدیق کرتے ہو اور تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا۔ اللہ کی قسم! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو کسی بھی نبی کو ایسی شدید صورت حال میں مبعوث نہیں کیا گیا جیسی صورت حال میں آپ کو کیا گیا۔ (انبیاء کی آمد کے درمیان) وقفہ آ چکا تھا۔ جاہلیت کا زمانہ تھا لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت کرنے سے بہتر دین اور کوئی نہیں ہے پھر فرق کرنے والی (کتاب یا اسلام) آیا جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا۔ اس نے باپ اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی کروا دی، یہاں تک کہ ایک شخص اپنی اولاد یا اپنے والد یا اپنے بھائی کو کافر سجھتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو ایمان کے لئے کھول دیا تھا۔ وہ یہ بات جانتا تھا کہ اگر اس کا قریبی رشتہ دار ہلاکت کا شکار ہوا تو جنم میں جائے گا۔ اس بات پر اس کی آنکھ ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی جب کہ وہ یہ بات جانتا تھا کہ اس کی محبوب ہستی جہنم میں جائے گی۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا۔ ” وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمارے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6552
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2823). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6518»