کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان -
حدیث نمبر: 6548
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی: ” اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ، اے عبدالمطلب کی صاحبزادی صفیہ، اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، البتہ تم میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔
حدیث نمبر: 6549
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، قَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، لا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، سَلِينِي مَا شِئْتِ ، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " .
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے یہ بات بیان کی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ” اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قریش اللہ تعالیٰ سے اپنی جانیں خرید لو میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے بنو عبدالمطلب میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ! تم جو چاہو مجھ سے مانگ لو لیکن میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔