کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑے سے دودھ میں برکت دی حتیٰ کہ اس سے بہت سے لوگوں نے سیراب ہوئے
حدیث نمبر: 6535
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : وَالَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ ، إِِنْ كُنْتُ لأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًَا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا سَأَلْتُهُ إِِلا لِيُشْبِعَنِي ، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ ، وَمَرَّ بِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، مَا سَأَلْتُهُ إِِلا لِيُشْبِعَنِي ، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ ، حَتَّى مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِوَجْهِي ، وَمَا فِي نَفْسِي ، قَالَ : " أَبَا هِرٍّ " ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : " الْحَقْ " ، فَلَحِقْتُهُ ، فَدَخَلَ إِِلَى أَهْلِهِ ، فَأَذِنَ ، فَدَخَلْتُ ، فَإِِذَا هُوَ بِلَبَنٍ فِي قَدَحٍ ، فَقَالَ لأَهْلِهِ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ " ، قَالَ : هَدِيَّةُ فُلانٍ ، أَوْ قَالَ : فُلانٌ ، فَقَالَ : " أَبَا هِرٍّ ، الْحَقْ إِِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَادْعُهُمْ " ، وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافٌ لأَهْلِ الإِِسْلامِ ، لا يَأْوُونَ إِِلَى أَهْلٍ أَوْ مَالٍ ، إِِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِِلَيْهِمْ ، وَلَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا ، وَإِِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ بَعَثَ بِهَا إِِلَيْهِمْ وَشَرَكَهُمْ فِيهَا ، وَأَصَابَ مِنْهَا ، فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ ، قُلْتُ : أَيْنَ يَقَعُ هَذَا اللَّبَنُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ ، وَأَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُمْ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَدَخَلُوا ، وَأَخَذَ الْقَوْمُ مَجَالِسَهُمْ ، قَالَ : " أَبَا هِرٍّ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ ، فَنَاوِلْهُمْ " ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُنَاوَلُ رَجُلًَا رَجُلًَا ، فَيَشْرَبُ ، فَإِِذَا رَوِيَ ، أَخَذْتُهُ ، فَنَاوَلْتُ الآخَرَ ، حَتَّى رَوِيَ الْقَوْمُ جَمِيعًا ، ثُمَّ انْتَهَيْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَتَبَسَّمَ ، وَقَالَ : " أَبَا هِرٍّ ، بقيتُ أَنَا وَأَنْتَ " ، قُلْتُ : صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ ، فَاشْرَبْ " ، فَمَا زَالَ يَقُولُ : " اشْرَبْ " ، حَتَّى قُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا ، قَالَ : " فَأَرِنِي الإِِنَاءَ " ، فَأَعْطَيْتُهُ الإِِنَاءَ ، فَشَرِبَ الْبَقِيَّةَ ، وَحَمِدَ رَبَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ (بعض اوقات) میرا یہ عالم ہوتا تھا کہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنا کلیجہ زمین کے ساتھ لگا لیا کرتا تھا۔ ایک دن میں لوگوں کے راستے میں بیٹھ گیا جہاں سے وہ گزرا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے میں نے ان سے اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لئے سوال کیا تھا تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ تشریف لے گئے۔ انہوں نے کچھ نہیں کیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے ان سے بھی اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لئے یہ سوال کیا تھا تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ چلے گئے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر میرے پاس سے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے جب آپ نے میرے چہرے کو دیکھا اور جو کچھ میرے من میں تھا ملاحظہ کیا تو آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ آؤ۔ میں آپ کے ساتھ چل پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔ آپ نے (مجھے اندر آنے کی) اجازت دی تو میں اندر آیا۔ وہاں ایک پیالے میں دودھ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ سے دریافت کیا: یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ فلاں نے ہدیہ بھیجا ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فلاں نے بھیجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بلا لاؤ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے۔ ان کا کوئی گھر بار کوئی مال منال نہیں تھا جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی صدقہ آتا تھا تو آپ وہ ان لوگوں کی طرف بھجوا دیتے تھے۔ آپ اس صدقے میں حصہ دار نہیں بنتے تھے لیکن جب آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ آتا تو آپ وہ ان کی طرف بھجوایا کرتے تھے اور اس تحفے میں ان کے ساتھ حصہ دار ہوتے تھے۔ آپ اس میں سے خود وہ چیز استعمال کر لیتے تھے۔
(سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بہت بری لگی میں نے سوچا بھلا اتنا سا دودھ اہل صفہ کے اور میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے (کیا کام آئے گا) لیکن میں چلا گیا میں ان لوگوں کو بلا لایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی وہ لوگ اندر آ گئے۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (دودھ کا پیالہ) لو اور اسے ان لوگوں کو پکڑاؤ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے (وہ پیالہ) ایک ایک شخص کی طرف بڑھانا شروع کیا۔ وہ شخص اسے لیتا جب وہ سیر ہو جاتا تو میں اس سے واپس لے لیتا اور دوسرے شخص کی طرف بڑھا دیتا، یہاں تک کہ سب لوگ سیر ہو گئے پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ مسکرا دیئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اب میں اور تم (باقی رہ گئے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے سچ فرمایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے لو اور اسے پی لو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہی کہتے رہے ” اور پیو “ یہاں تک کہ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔ مجھے اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ برتن مجھے دکھاؤ۔ میں نے وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والا (دودھ) پی لیا اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کی۔
(سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بہت بری لگی میں نے سوچا بھلا اتنا سا دودھ اہل صفہ کے اور میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے (کیا کام آئے گا) لیکن میں چلا گیا میں ان لوگوں کو بلا لایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی وہ لوگ اندر آ گئے۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (دودھ کا پیالہ) لو اور اسے ان لوگوں کو پکڑاؤ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے (وہ پیالہ) ایک ایک شخص کی طرف بڑھانا شروع کیا۔ وہ شخص اسے لیتا جب وہ سیر ہو جاتا تو میں اس سے واپس لے لیتا اور دوسرے شخص کی طرف بڑھا دیتا، یہاں تک کہ سب لوگ سیر ہو گئے پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ مسکرا دیئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اب میں اور تم (باقی رہ گئے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے سچ فرمایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے لو اور اسے پی لو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہی کہتے رہے ” اور پیو “ یہاں تک کہ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔ مجھے اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ برتن مجھے دکھاؤ۔ میں نے وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والا (دودھ) پی لیا اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کی۔