کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر چوتھی خبر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے
حدیث نمبر: 6533
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ بِالرَّيِّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَتَتْ عَلَيَّ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ لَمْ أَطْعَمْ فِيهَا طَعَامًا ، فَجِئْتُ أُرِيدُ الصُّفَّةَ ، فَجَعَلْتُ أَسْقُطُ ، فَجَعَلَ الصِّبْيَانُ يُنَادُونَ : جُنَّ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أُنَادِيهِمْ وأَقُولُ : بَلْ أَنْتُمُ الْمَجَانِينُ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِِلَى الصُّفَّةِ ، فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ ، " فَدَعَا عَلَيْهَا أَهْلَ الصُّفَّةِ وَهُمْ يَأْكُلُونَ مِنْهَا ، فَجَعَلْتُ أَتَطَاوَلُ كَيْ يَدْعُوَنِي ، حَتَّى قَامَ الْقَوْمُ وَلَيْسَ فِي الْقَصْعَةِ إِِلا شَيْءٌ فِي نَوَاحِي الْقَصْعَةِ ، فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَارَتْ لُقْمَةً ، فَوَضَعَهَا عَلَى أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ لِي : كُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا زِلْتُ آكُلُ مِنْهَا حَتَّى شَبِعْتُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھ پر تین ایسے دن آئے جن میں، میں نے کچھ نہیں کھایا میں صفہ (کے چبوترے) پر آنا چاہ رہا تھا لیکن گر گیا۔ بچوں نے بلند آواز میں کہنا شروع کر دیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دیوانہ ہو گیا ہے۔ تو میں نے انہیں بلند آواز میں جواب دینا شروع کیا۔ میں نے کہا: بلکہ تم لوگ پاگل ہو، یہاں تک کہ ہم لوگ (اسی عالم میں) صفہ تک آ گئے۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھانے کے لئے اہل صفہ کو بلوایا تھا اور وہ لوگ اسے کھا رہے تھے۔ میں نے خود کو سیدھا کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ لوگ مجھے بھی دعوت دیں (لیکن کچھ نہیں ہوا) یہاں تک کہ وہ لوگ (کھانا کھا کر) اٹھ گئے۔ اس پیالے میں صرف وہ چیز باقی رہ گئی جو پیالے کے کناروں پر موجود ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکٹھا کیا تو وہ ایک لقمہ بنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنی انگلیوں میں رکھا اور پھر مجھ سے فرمایا اللہ کا نام لے کر اسے کھا لو (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میں اس ایک لقے کو اتنی دیر کھاتا رہا کہ میں سیر ہو گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6533
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (4/ 120 - 121)، والصحيح حديثه الآتي بعد حديث. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6499»