کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑے سے کھانے میں برکت دی حتیٰ کہ اس سے بہت سے لوگوں نے کھایا
حدیث نمبر: 6529
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ ، فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ ، فَتَعَاقَبُوهَا إِِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ ، يَقُومُ قَوْمٌ وَيَجْلِسُ آخَرُونَ ، فَقَالَ رَجُلٌ لِسَمُرَةَ : أَكَانَ يُمَدُّ ؟ ! فَقَالَ سَمُرَةُ : " مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَتَعَجَّبَ ؟ مَا كَانَ يُمَدُّ إِِلا مِنْ هَا هُنَا ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِِلَى السَّمَاءِ " .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا وہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو لوگ صبح سے لے کر دوپہر تک یکے بعد دیگرے اس کے پاس آتے رہے۔ کچھ لوگ اٹھتے تو دوسرے آ کر بیٹھ جاتے۔ ایک شخص نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا وہ بڑھ رہا تھا؟ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کس بات پر حیرانگی ہو رہی ہے۔ وہ صرف اس طرف سے بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا:۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6529
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (5928). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6495»