کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑی چیزوں میں برکت دی جو انہیں ان کی امت سے ممتاز کرتی تھی
حدیث نمبر: 6528
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ مِنْ مُزَيْنَةَ ، فَقَالَ لِعُمَرَ : " انْطَلِقْ فَجَهِّزْهُمْ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنْ هِيَ إِِلا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَانْطَلَقَ ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُزْتِهِ ، فَفَتَحَ الْبَابَ ، فَإِِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنَ التَّمْرِ ، فَأَخَذْنَا مِنْهُ حَاجَتَنَا ، قَالَ : فَلَقَدِ الْتَفَتُّ إِِلَيْهِ ، وَإِِنِّي لَمِنْ آخِرِ أَصْحَابِي كَأَنَّا لَمْ نَرْزَأَهْ تَمْرَةً " .
سیدنا دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں قبیلے کے کچھ سواروں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم جاؤ اور ان کے لئے ساز و سامان کا بندوبست کرو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! صرف کھجوروں کے چند صاع ہیں پھر وہ چلے گئے۔ انہوں نے اپنے ڈب میں سے چابی نکال کر دروازہ کھولا تو وہ ڈھیر ساری کھجوریں تھیں۔ ہم نے اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے مڑ کر اس کمرے کی طرف دیکھا تو میں وہاں سے نکلنے والا آخری فرد تھا لیکن یوں لگتا تھا جیسے ہم نے وہاں سے ایک بھی کھجور نہیں لی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6528
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد. * [عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ] قال الشيخ: هو علي بن مسلم بن سعيد الواسطي، ثقة من شيوخ البخاري، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين؛ فالسند صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6494»