کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ابن عباس کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6527
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ : هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ : هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ ، قَالَ : لا ، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَهُ لَيْلَةً ، فَفَقَدْنَاهُ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ، إِِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ ، فَقَالَ : " إِِنَّهُ قَدْ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ " ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَرَانَا نِيرَانَهُمْ وَآثَارَهُمْ ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الزَّادِ ، فَقَالَ : " لَكُمْ كُلُّ عَظْمِ طَعَامٍ يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا ، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا ، فَإِِنَّهُمَا طَعَامُ إِِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ " .
امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ بن قیس سے دریافت کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو علقمہ نے جواب دیا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا: کیا آپ (یعنی صحابہ کرام) میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب جنات سے ملاقات ہوئی تھی، تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نے آپ کو غیر موجود پایا تو ہم نے وہ رات بدترین حالت میں گزاری۔ صبح کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا کی طرف سے تشریف لائے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جنات کا پیغام رساں میرے پاس آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے پھر آپ نے ہمیں جنات کے آگ جلانے اور دیگر چیزوں کے نشانات ہمیں دکھائے۔ ان جنات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زادراہ کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کی ہر ہڈی جب تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہو گا اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارا ہو گی۔
(راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ان دو چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6527
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1429). تنبيه!! رقم (1429) = (1432) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6493»