کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے معجزاتی چیزوں کے اثبات کے لیے معروف دلائل ہیں
حدیث نمبر: 6524
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ، وَاتَّبَعْتُهُ بِإِِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَرَى شَيْئًا لِيَسْتَتِرَ بِهِ ، فَإِِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِي ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى إِِحْدَاهُمَا ، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا ، فَقَالَ : " انْقَادِي عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ " ، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الأُخْرَى ، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا ، فَقَالَ : " انْقَادِي عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ " ، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِِذَا كَانَ النِّصْفُ جَمَعَهُمَا ، فَقَالَ : " الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ " ، فَالْتَأَمَتَا ، قَالَ جَابِرٌ : فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ مَخَافَةَ أَنْ يُحِسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُرْبِي فَيَتَبَاعَدَ ، فَجَلَسْتُ ، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ ، فَإِِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ ، وَإِِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا ، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ وَقْفَةً ، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا يَمِينًا وَيَسَارًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، فَلَمَّا انْتَهَى إِِلَيَّ ، قَالَ : " يَا جَابِرُ ، هَلْ رَأَيْتَ مَقَامِي ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَانْطَلِقْ إِِلَى الشَّجَرَتَيْنِ ، فَاقْطَعْ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا غُصْنًَا ، فَأَقْبِلْ بِهِمَا ، حَتَّى إِِذَا قُمْتَ مَقَامِي أَرْسِلْ غُصْنًا عَنْ يَمِينِكِ وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِكِ " ، قَالَ جَابِرٌ : فَأَخَذْتُ حَجَرًا ، فَكَسَرْتُهُ ، فَأَتَيْتُ الشَّجَرَتَيْنِ ، فَقَطَعْتُ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًَا ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ أَجُرُّهُمَا ، حَتَّى إِِذَا قُمْتُ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرْسَلْتُ غُصْنًا عَنْ يَمِينِي وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِي ، ثُمَّ لَحِقْتُهُ ، فَقُلْتُ : قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَمَّ ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَ : " إِِنِّي مَرَرْتُ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ ، فَأَحْبَبْتُ بِشَفَاعَتِي أَنْ يُرَفَّهَ عَنْهُمَا مَا دَامَ الْغُصْنَانِ رَطْبَيْنِ " ، فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَابِرُ ، نَادِ بِوَضُوءٍ " ، فَقُلْتُ : أَلا وَضُوءَ أَلا وَضُوءَ ؟ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُبْرِدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ إِِلَى فُلانٍ الأَنْصَارِيِّ ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ ؟ " ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ إِِلَيْهِ ، فَنَظَرْتُ فِيهَا ، فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِِلا قَطْرَةً فِي عَزْلاءِ شَجْبٍ مِنْهَا ، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ مَا كَانَتْ شَرْبَةً ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِِلا قَطْرَةً فِي عَزْلاءِ شَجْبٍ مِنْهَا ، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ " ، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لا أَدْرِي مَا هُوَ ، وَيَغْمِزُهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَعْطَانِيهِ ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ ، نَادِ بِجَفْنَةٍ " ، فَقُلْتُ : يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ بِهَا تُحْمَلُ ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا ، وَبَسَطَ يَدَهُ فِي وَسَطِ الْجَفْنَةِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، وَقَالَ : " خُذْ يَا جَابِرُ ، وَصُبَّ عَلَيَّ ، وَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ " ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى امْتَلأَتْ ، قَالَ : " يَا جَابِرُ ، نَادِ مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ " ، قَالَ : فَأَتَى النَّاسُ ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ ؟ قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلأَى .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے وادی افیح میں پڑاؤ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ میں پانی کا برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا جائزہ لیا تو آپ کو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس کے ذریعے آپ رکاوٹ بنا لیں۔ وادی کے کنارے پر دو درخت موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے اس کی ایک ٹہنی کو پکڑا اور فرمایا اللہ کے حکم کے تحت میرے ساتھ چلو تو وہ درخت ایک فرمانبردار اونٹ کی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا جو اونٹ اپنے ساتھ لے کر چلنے والے کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے درخت کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے اس کی بھی ایک ٹہنی کو پکڑا اور فرمایا اللہ کے حکم کے تحت میرے ساتھ چلو تو وہ بھی آپ کے ساتھ اسی طرح چل پڑا، یہاں تک کہ (ان دونوں کے) درمیان میں آ کر وہ دونوں ایک دوسرے سے مل گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کے حکم کے تحت تم میرے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا تو وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہو گئے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے کچھ پیچھے ہٹ گیا۔ اس اندیشے کے تحت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا قریب ہونا محسوس ہو گیا تو شاید آپ زیادہ دور تشریف لے جائیں۔ میں وہاں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہ درخت ایک دوسرے سے الگ ہو چکے تھے۔ ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذرا سی دیر کے لئے رکے اور آپ نے اپنے سر کو بائیں اور دائیں طرف گھمایا پھر آپ تشریف لے آئے جب آپ میرے پاس پہنچے تو آپ نے دریافت کیا: اے جابر کیا تم نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ میں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ کر انہیں میری طرف لے آؤ، یہاں تک کہ جب تم اس مقام پر پہنچو جہاں تم نے مجھے کھڑے ہوئے دیکھا تھا تو ایک ٹہنی اپنے دائیں طرف چھوڑ دینا اور ایک بائیں طرف چھوڑ دینا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک پتھر لے کر اس کے دو ٹکڑے کئے۔ پھر میں ان دو درختوں کے پاس آیا میں نے ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ لی پھر میں انہیں گھسیٹتا ہوا آیا، یہاں تک کہ اس جگہ پر آ کر کھڑا ہو گیا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے تو میں نے ایک ٹہنی کو اپنے دائیں طرف اور ایک ٹہنی کو اپنے بائیں طرف چھوڑ دیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے ایسا کر لیا ہے۔ آپ نے ایسا کیوں کروایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا جنہیں عذاب دیا دیا جا رہا تھا، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میری شفاعت کے ذریے ان دونوں کے عذاب میں اس وقت تک تخفیف ہو جائے جب تک وہ دونوں ٹہنیاں تر رہتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے جابر! وضو کے پانی کے لئے اعلان کر دو، تو میں نے اعلان کیا خبردار! وضو کا پانی ہے۔
میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے تو لشکر میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا۔ (راوی کہتے ہیں:) انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو اپنے ڈول میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ٹھنڈا پانی رکھتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کے ڈول میں کوئی پانی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں اس شخص کے پاس گیا میں نے اس ڈول کا جائزہ لیا تو مجھے اس ڈول کے سرے پر صرف ایک پانی کا قطرہ دکھائی دیا اگر میں اسے انڈیل لیتا تو وہ پینے کے قابل نہ رہتا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اس ڈول میں صرف ایک قطرہ ملا جو اس کے سرے پر موجود تھا اگر میں اسے انڈیل لیتا تو اس کے خشک حصے نے اسے جذب کر لینا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قطرہ اپنے دست مبارک پر ڈالا اور کچھ پڑھنا شروع کیا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ٹٹولنا شروع کیا پھر آپ نے مجھے وہ عطا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر پیالے کے لئے اعلان کرو، تو میں نے کہا: کوئی پیالہ لے کہ آئے۔ راوی کہتے ہیں: میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا یعنی پیالے کے درمیان میں اپنا ہاتھ بڑھایا اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا۔ آپ نے فرمایا: اے جابر اسے حاصل کرو اور اسے میرے اوپر انڈیل دو اور بسم اللہ پڑھ لینا۔ میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر انڈیل دیا اور میں نے بسم اللہ پڑھ لی، تو میں نے پانی کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پھوٹ رہا تھا، یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر یہ اعلان کرو کہ جس شخص کو بھی پانی کی ضرورت ہو (وہ آ جائے) راوی کہتے ہیں: تو لوگ آ گئے۔ انہوں نے پانی پی لیا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اعلان کیا: کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے (پانی کی) ضرورت ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے سے اپنا دست مبارک اٹھایا تو وہ پیالہ بھرا ہوا تھا۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے کچھ پیچھے ہٹ گیا۔ اس اندیشے کے تحت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا قریب ہونا محسوس ہو گیا تو شاید آپ زیادہ دور تشریف لے جائیں۔ میں وہاں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہ درخت ایک دوسرے سے الگ ہو چکے تھے۔ ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذرا سی دیر کے لئے رکے اور آپ نے اپنے سر کو بائیں اور دائیں طرف گھمایا پھر آپ تشریف لے آئے جب آپ میرے پاس پہنچے تو آپ نے دریافت کیا: اے جابر کیا تم نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ میں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ کر انہیں میری طرف لے آؤ، یہاں تک کہ جب تم اس مقام پر پہنچو جہاں تم نے مجھے کھڑے ہوئے دیکھا تھا تو ایک ٹہنی اپنے دائیں طرف چھوڑ دینا اور ایک بائیں طرف چھوڑ دینا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک پتھر لے کر اس کے دو ٹکڑے کئے۔ پھر میں ان دو درختوں کے پاس آیا میں نے ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ لی پھر میں انہیں گھسیٹتا ہوا آیا، یہاں تک کہ اس جگہ پر آ کر کھڑا ہو گیا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے تو میں نے ایک ٹہنی کو اپنے دائیں طرف اور ایک ٹہنی کو اپنے بائیں طرف چھوڑ دیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے ایسا کر لیا ہے۔ آپ نے ایسا کیوں کروایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا جنہیں عذاب دیا دیا جا رہا تھا، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میری شفاعت کے ذریے ان دونوں کے عذاب میں اس وقت تک تخفیف ہو جائے جب تک وہ دونوں ٹہنیاں تر رہتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے جابر! وضو کے پانی کے لئے اعلان کر دو، تو میں نے اعلان کیا خبردار! وضو کا پانی ہے۔
میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے تو لشکر میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا۔ (راوی کہتے ہیں:) انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو اپنے ڈول میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ٹھنڈا پانی رکھتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کے ڈول میں کوئی پانی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں اس شخص کے پاس گیا میں نے اس ڈول کا جائزہ لیا تو مجھے اس ڈول کے سرے پر صرف ایک پانی کا قطرہ دکھائی دیا اگر میں اسے انڈیل لیتا تو وہ پینے کے قابل نہ رہتا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اس ڈول میں صرف ایک قطرہ ملا جو اس کے سرے پر موجود تھا اگر میں اسے انڈیل لیتا تو اس کے خشک حصے نے اسے جذب کر لینا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قطرہ اپنے دست مبارک پر ڈالا اور کچھ پڑھنا شروع کیا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ٹٹولنا شروع کیا پھر آپ نے مجھے وہ عطا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر پیالے کے لئے اعلان کرو، تو میں نے کہا: کوئی پیالہ لے کہ آئے۔ راوی کہتے ہیں: میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا یعنی پیالے کے درمیان میں اپنا ہاتھ بڑھایا اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا۔ آپ نے فرمایا: اے جابر اسے حاصل کرو اور اسے میرے اوپر انڈیل دو اور بسم اللہ پڑھ لینا۔ میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر انڈیل دیا اور میں نے بسم اللہ پڑھ لی، تو میں نے پانی کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پھوٹ رہا تھا، یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر یہ اعلان کرو کہ جس شخص کو بھی پانی کی ضرورت ہو (وہ آ جائے) راوی کہتے ہیں: تو لوگ آ گئے۔ انہوں نے پانی پی لیا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اعلان کیا: کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے (پانی کی) ضرورت ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے سے اپنا دست مبارک اٹھایا تو وہ پیالہ بھرا ہوا تھا۔