کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت پر درختوں کی اطاعت سے دلائل ظاہر کیے
حدیث نمبر: 6523
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يُدَاوِي وَيُعَالِجُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءً ، هَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ ؟ ، قَالَ : فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً " ، وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرٌ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذْقًا مِنْهَا ، فَأَقْبَلَ إِِلَيْهِ وَهُوَ يَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَسْجُدُ ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ إِِلَى مَكَانِكَ ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ : وَاللَّهِ لا أُكَذِّبُكَ بِشَيْءٍ تَقُولُهُ أَبَدًا ، ثُمَّ قَالَ : يَا آلَ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، وَاللَّهِ لا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ " ، قَالَ : وَالْعِذْقُ : النَّخْلَةُ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ شخص دوا دیا کرتا تھا اور علاج کرتا تھا۔ اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے کچھ نظریات ہیں کیا آپ کو اس بارے میں دلچسپی ہے کہ میں آپ کو کوئی دوائی دوں۔ (یعنی آپ کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تو میں آپ کو اس کی دوا دیتا ہوں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ میں تمہیں کوئی نشانی دکھاؤں۔ اس وقت اس شخص کے پاس ایک کھجور کا درخت تھا اور ایک دوسرا درخت تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کو اپنے پاس بلایا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کبھی سجدہ کرتا ہوا کبھی سر کو اٹھاتا ہوا کبھی سجدہ کرتا ہوا کبھی اپنے سر کو اٹھاتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور آ کے آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ تو بنو عامر قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب میں کبھی بھی آپ کو کسی بھی ایسی بات کے حوالے سے جھوٹا قرار نہیں دوں گا جو بات آپ بیان کریں گے پھر اس شخص نے کہا: اے عامر بن صعصعہ کی اولاد اللہ کی قسم! میں ان کی کسی بھی بات کو جھٹلاؤں گا نہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ عذق سے مراد کھجور کا درخت ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6523
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (5926 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6489»