کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مشرک کی نظر سے بچایا جو انہیں ایذاء دینے کا ارادہ رکھتا تھا
حدیث نمبر: 6511
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ سورة المسد آية 1 ، جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي لَهَبٍ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّهَا امْرَأَةٌ بَذِيئَةٌ ، وَأَخَافُ أَنْ تُؤْذِيَكَ ، فَلَوْ قُمْتَ ، قَالَ : إِِنَّهَا لَنْ تَرَانِي ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا بَكْرِ ، إِِنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي ، قَالَ : لا ، وَمَا يَقُولُ الشِّعْرَ ، قَالَتْ : أَنْتَ عِنْدِي مُصَدَّقٌ ، وَانْصَرَفَتْ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ تَرَكَ ؟ ، قَالَ : " لا ، لَمْ يَزَلْ مَلَكٌ يَسْتُرُنِي عَنْهَا بِجَنَاحِهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ” ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں “ تو ابولہب کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! یہ عورت بڑی بدزبان ہے۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو اذیت پہنچائے گی اگر آپ تشریف لے جائیں (تو یہ مناسب ہو گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی۔ وہ عورت آئی اس نے کہا: اے ابوبکر تمہارے آقا نے میری ہجو بیان کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں وہ شعر تو کہتے ہی نہیں ہیں۔ اس عورت نے کہا: تم میرے نزدیک سچے آدمی ہو، پھر وہ عورت چلی گئی۔ میں نے عرض کی: یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس نے آپ کو دیکھا ہی نہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں ایک فرشتے نے اپنے پروں کے ذریعے مجھے اس سے چھپایا ہوا تھا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6511
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: قلت: أخرجه من طريق أبي يعلى، وهذا في «مسنده» (1/ 33 و 4/ 246). ورجاله ثقات؛ غير أَنَّ عطاء بن السائب كان اختلط. ومن طريقِه: أخرجه البزَّار (2294 و 2295) وغيره، ومع ذلك حَسَّنَ الحافظ إسناده في «الفتح» (8/ 738)! ولعلَّ ذلك لأنَّ له شاهداً في «مسند الحميدي» (323) من طريق الوليد بن كثير، عن ابن تَدرُس، عن أسماء بنت عُميسٍ ... نحوه. ومِنْ طريق الحُميدي: أخرجه الحاكم (2/ 361)، وقال: «صحيح الإسناد»! ووافقه الذهبي!! وابنُ تَدْرُسَ - هذا لم نعرفه. ولعلَّ أداة الكنية (ابن) مُقحمةٌ مِنْ بعضِ الرُّواة، والصوابُ: (تَدرُس)، وهو جَدُّ أَبِي الزُّبير، محمد بن مسلم بن تَدْرُسَ، فقد ذكره المِزِّيُّ في شيوخ الوليد بن كثير - الراوي عنه هذا الحديث -؛ كما ذكره في الرواة عن أسماء بنت أبي بكر، وهذا سهوٌ منه، والصواب أَنْ يُذكرَ في الرواة عن أسماء بنت عميس؛ كما في هذا الحديث. وعلى كلِّ حالٍ؛ فَإِنِّي لم أَجِدْ لتَدْرُسَ هذا ترجمةً، ولكنَّ الحديثَ بِهَذا الشاهد حسنٌ - إن شاء الله -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح بشواهده
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6477»