کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ درخت نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی
حدیث نمبر: 6505
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ تُرِيدُ ؟ " ، قَالَ : إِِلَى أَهْلِي ، قَالَ : " هَلْ لَكَ إِِلَى خَيْرٍ ؟ " ، قَالَ : مَا هُوَ ؟ ، قَالَ : " تَشَهَّدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : هَلْ مِنْ شَاهِدٍ عَلَى مَا تَقُولُ ؟ ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ السَّمُرَةُ " ، فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي ، فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الأَرْضَ خَدًّا حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلاثًا ، فَشَهِدَتْ أَنَّهُ كَمَا قَالَ ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِِلَى مَنْبَتِهَا ، وَرَجَعَ الأَعْرَابِيُّ إِِلَى قَوْمِهِ ، وَقَالَ : إِِنْ يَتَّبِعُونِي أَتَيْتُكَ بِهِمْ ، وَإِِلا رَجَعْتُ إِِلَيْكَ ، فَكُنْتُ مَعَكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک دیہاتی آیا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کہاں جا رہے ہو۔ اس نے کہا: اپنے گھر والوں کی طرف، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہیں بھلائی میں کوئی دلچسپی ہے۔ اس نے جواب دیا: وہ کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس نے دریافت کیا: آپ جو بات کہہ رہے ہیں کیا اس کا کوئی گواہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ببول کا درخت ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت کو بلوایا۔ وہ اس وادی کے کنارے پر موجود تھا تو زمین کو چیرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے تین مرتبہ کلمہ شہادت پڑھا اور اس بات کی گواہی دی کہ ایسا ہی ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے پھر وہ اس جگہ واپس چلا گیا جہاں وہ اُگا تھا، جب وہ دیہاتی اپنی قوم کے پاس واپس جانے لگا تو وہ بولا: اگر ان لوگوں نے میری بات مان لی تو میں ان کو لے کر آپ کی خدمت میں آؤں گا ورنہ میں خود آپ کے پاس واپس آ جاؤں گا اور آپ کے ساتھ رہوں گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6505
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج المشكاة» (2925). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6471»