کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ بعض منافقین کی موت پر تیز ہوا چلنے کے بارے میں
حدیث نمبر: 6500
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، حَتَّى وَقَعَتِ الرِّحَالُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا لِمَوْتِ مُنَافِقٍ " ، قَالَ : فَرَجَعْنَا إِِلَى الْمَدِينَةِ ، فَوَجَدْنَا مُنَافِقًا عَظِيمَ النِّفَاقِ مَاتَ يَوْمَئِذٍ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک غزوہ میں شرکت کی تو ان لوگوں پر انتہائی تیز ہوا چلی، یہاں تک کہ پالان گرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کسی منافق کی موت (کی نشانی ہے) راوی کہتے ہیں: جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے تو وہاں آ کر ہمیں پتہ چلا اس دن ایک بڑے منافق کا انتقال ہو گیا تھا۔