کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ بدر میں قریش سے جو مارے گئے ان کے مصارع کے بارے میں
حدیث نمبر: 6498
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَرَدَ بَدْرًا ، أَوْمَأَ فِيهَا إِِلَى الأَرْضِ ، فَقَالَ : " هَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ " ، فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ ، وَتَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلاثًا ، ثُمَّ أَتَاهُمْ ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ ، أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًَّا ؟ فَإِِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَ رَبِّي حَقًّا " ، قَالَ : فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَسْمَعُونَ قَوْلَكَ ، أَوْ يُجِيبُونَ وَقَدْ جَيَّفُوا ؟ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ لا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا " ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ ، فَسُحِبُوا ، فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ فلاں شخص کے مرنے کی جگہ ہے، یہ فلاں شخص کے مرنے کی جگہ ہے، تو اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی بھی شخص اپنی مخصوص جگہ سے ذرا بھی نہیں ہٹا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے (کفار) مقتولین کو تین دن تک ایسے ہی رہنے دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچ نہیں پایا۔ میرے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے سچ پا لیا۔
راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا: تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اپنی بات ان لوگوں کو سنا رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں جو کہہ رہا ہوں تم اس بات کو ان لوگوں سے زیادہ اچھے طور پر نہیں سن رہے، لیکن وہ لوگ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان لوگوں کو گھسیٹ کر بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔
راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا: تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اپنی بات ان لوگوں کو سنا رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں جو کہہ رہا ہوں تم اس بات کو ان لوگوں سے زیادہ اچھے طور پر نہیں سن رہے، لیکن وہ لوگ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان لوگوں کو گھسیٹ کر بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔