کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6491
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُخْتَ الرَّبِيعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِِنْسَانًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ " ، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَقْتَصُّ مِنْ فُلانَةَ ؟ ! لا وَاللَّهِ ، لا تَقْتَصُّ مِنْهَا ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِمْ حَتَّى رَضُوا بِالدِّيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ربیعہ کی بہن ام حارثہ نے ایک شخص کو زخمی کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قصاص دلوایا جائے گا قصاص دلوایا جائے گا، تو ام ربیعہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا فلاں عورت سے قصاص دلوایا جائے گا؟ جی نہیں اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہیں دلوایا جائے گا، پھر دوسرے طریقے سے بات چیت ہوتی رہی، یہاں تک کہ وہ لوگ دیت لینے پر رضامند ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دیتا ہے۔