کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: معجزاتِ کا بیان - ذکر دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ غیر انبیاء میں بھی ایسی حالتیں ہوتی ہیں جو معجزات کی طرف لے جاتی ہیں
حدیث نمبر: 6489
أَخْبَرَنَا مُظْهِرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَابِتٍ بِوَاسِطَ الشَّيْخُ الصَّالِحُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِِسْحَاقَ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِِلا ثَلاثَةٌ : عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ ، كَانَ فِي بَنِي إِِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : جُرَيْجٌ ، فَأَنْشَأَ صَوْمَعَةً ، فَجَعَلَ يَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا ، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَنَادَتْهُ ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِِلَيْهَا ، ثُمَّ أَتَتْهُ يَوْمًا ثَانِيًا ، فَنَادَتْهُ ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِِلَيْهَا ، ثُمَّ أَتَتْهُ يَوْمًا ثَالِثًا ، فَقَالَ : صَلاتِي وَأُمِّي ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لا تُمِتْهُ أَوْ يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ ، قَالَ : فَتَذَاكَرَ بَنُو إِِسْرَائِيلَ يَوْمًا جُرَيْجًا ، فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِِسْرَائِيلَ : إِِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَفْتِنَهُ فَتَنْتُهُ ، قَالُوا : قَدْ شِئْنَا ، قَالَ : فَانْطَلَقَتْ فَتَعَرَّضَتْ لِجُرَيْجٍ ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِِلَيْهَا ، فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِِلَى صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ بِغَنَمِهِ ، فَأَمْكَنَتْهُ نَفْسَهَا ، فَحَمَلَتْ ، فَوَلَدَتْ غُلامًا ، فَقَالَتْ : هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ ، فَضَرَبُوهُ ، وَشَتَمُوهُ ، وَهَدُّوا صَوْمَعَتَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا شَأْنُكُمْ ؟ قَالُوا : زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ ، فَوَلَدَتْ غُلامًا ، قَالَ : وَأَيْنَ الْغُلامُ ؟ قَالُوا : هُوَ ذَا ، قَالَ : فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى الْغُلامَ ، فَضَرَبَهُ بِإِِصْبَعِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا غُلامُ ، مَنْ أَبُوكَ ؟ قَالَ : فُلانٌ الرَّاعِي ، قَالَ : فَوَثَبُوا يُقَبِّلُونَ رَأْسَهُ ، قَالُوا لَهُ : نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : لا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ، ابْنُوهَا مِنْ طِينِ كَمَا كَانَتْ " . قَالَ : " وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ تُرْضِعُهُ ، إِِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ ، فَتَرَكَ الصَّبِيُّ ثَدْيَ أُمِّهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ يَنْظُرُ إِِلَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ ، ثُمَّ مَرَّ بِامْرَأَةٍ تُرْجَمُ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأُمَّةِ فَتَرَكَ الصَّبِيُّ أُمَّهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الأُمَّةِ يَنْظُرُ إِِلَيْهَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأَمَةِ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا بُنَيَّ ، مَرَّ رَاكِبٌ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، وَمَرَرْتُ بِهَذِهِ الأَمَةِ تُرْجَمُ ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأَمَةِ ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ، قَالَ : يَا أُمَّاهْ ، إِِنَّ الرَّاكِبَ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ ، وَإِِنَّ هَذِهِ الأَمَةَ يَقُولُونَ : سَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ ، وَيَقُولُونَ : زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ ، وَهِيَ تَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جھولے میں صرف تین بچوں نے گفتگو کی ہے، ایک سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے، جریج کے واقعے والے لڑکے نے، بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کا نام جریج تھا۔ اس نے ایک عبادت گاہ بنائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا۔ ایک دن اس کی ماں اس کے پاس آئی اور اسے بلند آواز میں پکارا، تو اس نے اپنی ماں کی بات کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ دوسرے دن اس کے پاس آئی، اس نے اسے بلند آواز میں پکارا تو اس نے پھر اس کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ تیسرے دن اس کی طرف آئی، تو اس نے سوچا ایک طرف میری نماز ہے، ایک طرف میری ماں ہے، تو اس کی ماں نے کہا: اے اللہ تو اسے اس وقت تک موت نہ دینا، جب تک یہ فاحشہ عورت کا منہ نہیں دیکھ لیتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک دن بنی اسرائیل جریج کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ اسی دوران بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے کہا: اگر تم لوگ چاہو تو میں اسے آزمائش کا شکار کر سکتی ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم تیار ہیں۔ وہ گئی اس نے جریج کو گناہ کی پیشکش کی۔ جریج نے اس کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ عورت ایک چرواہے کے پاس آئی جو جریج کی والدہ کے پاس اپنی بکریاں لے کر آیا ہوا تھا۔ اس عورت نے اس چرواہے کے ساتھ گناہ کیا، پھر حاملہ ہو گئی۔ اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔ اور یہ کہا: کہ یہ جریح کی اولاد ہے۔ اس بات پر بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے جریج پر حملہ کر دیا۔ اس کی پٹائی کرنے لگے اور اسے برا کہنے لگے۔ انہوں نے اس کے عبادت خانے کو منہدم کر دیا۔ جریج نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے، تو لوگوں نے کہا: تم نے ایک فاحشہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ جریج نے دریافت کیا وہ بچہ کہاں ہے۔ لوگوں نے کہا: وہ یہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جریج نے دو رکعت نماز ادا کی، پھر وہ بچے کے پاس آیا اور اپنی انگلی اسے لگا کر اسے کہا:۔ اے بچے تمہارا باپ کون ہے۔ اس نے کہا: فلاں چرواہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو لوگ جریج کے سر کو بوسہ دینے لگے اور انہوں نے کہا: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے سے بنائیں گے۔ جریج نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے تم اسے مٹی سے بنا دو جیسے یہ پہلے تھا۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک عورت کی گود میں ایک بچہ تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ اسی دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا تو اس عورت نے دعا کی: اے اللہ تو میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند (امیر کبیر) بنا دینا۔ بچے نے اپنی ماں کی چھاتی کو چھوڑا اور سوار کی طرف رخ کر کے اسے دیکھنے لگا، پھر وہ کہنے لگا: اے اللہ مجھے اس سوار کی مانند نہ بنانا، پھر وہاں سے ایک عورت گزری جسے سنگسار کیا جانا تھا۔ اس عورت (یعنی بچے کی ماں) نے یہ کہا: اے اللہ تو میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ بنانا۔ اس بچے نے اپنی ماں کو چھوڑا، اس کنیز کی طرف دیکھا اور بولا: اے اللہ تو مجھے اس کنیز کی مانند (مومن اور ایماندار) کر دینا۔ اس عورت نے کہا: اے میرے بیٹے پہلے ایک سوار گزرا تو میں نے کہا: اے اللہ میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند کر دینا، تو تم نے کہا: مجھے اس کی مانند نہ کرنا، پھر ایک کنیز گزری، اسے سنگسار کیا جانا تھا، تو میں نے کہا: اے اللہ میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ کرنا۔ اور تم یہ کہہ رہے ہو اے اللہ مجھے اس کی مانند کر دینا۔ اس لڑکے نے کہا: اے امی جان یہ سوار شخص ایک ظالم شخص ہے اور یہ کنیز جس کے بارے میں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے، اس نے چوری نہیں کی اور لوگ یہ کہتے ہیں: اس نے زنا کیا ہے، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا، وہ عورت یہی کہتی ہے: میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک عورت کی گود میں ایک بچہ تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ اسی دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا تو اس عورت نے دعا کی: اے اللہ تو میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند (امیر کبیر) بنا دینا۔ بچے نے اپنی ماں کی چھاتی کو چھوڑا اور سوار کی طرف رخ کر کے اسے دیکھنے لگا، پھر وہ کہنے لگا: اے اللہ مجھے اس سوار کی مانند نہ بنانا، پھر وہاں سے ایک عورت گزری جسے سنگسار کیا جانا تھا۔ اس عورت (یعنی بچے کی ماں) نے یہ کہا: اے اللہ تو میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ بنانا۔ اس بچے نے اپنی ماں کو چھوڑا، اس کنیز کی طرف دیکھا اور بولا: اے اللہ تو مجھے اس کنیز کی مانند (مومن اور ایماندار) کر دینا۔ اس عورت نے کہا: اے میرے بیٹے پہلے ایک سوار گزرا تو میں نے کہا: اے اللہ میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند کر دینا، تو تم نے کہا: مجھے اس کی مانند نہ کرنا، پھر ایک کنیز گزری، اسے سنگسار کیا جانا تھا، تو میں نے کہا: اے اللہ میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ کرنا۔ اور تم یہ کہہ رہے ہو اے اللہ مجھے اس کی مانند کر دینا۔ اس لڑکے نے کہا: اے امی جان یہ سوار شخص ایک ظالم شخص ہے اور یہ کنیز جس کے بارے میں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے، اس نے چوری نہیں کی اور لوگ یہ کہتے ہیں: اس نے زنا کیا ہے، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا، وہ عورت یہی کہتی ہے: میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔