کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ معجزات صرف انبیاء میں ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 6488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنَهَا ، مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ وَهِيَ تُرْضِعُهُ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لا تَمِتِ ابْنِي حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ هَذَا ، قَالَ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ إِِلَى الثَّدْيِ ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ تُلْعَنُ ، فَقَالَتِ : اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا ، أَمَّا الرَّاكِبُ ، فَكَانَ كَافِرًا ، وَأَمَّا الْمَرْأَةُ ، فَيَقُولُونَ لَهَا : إِِنَّهَا تَزْنِي ، فَتَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ ، وَيَقُولُونَ : تَسْرِقُ ، وَتَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک مرتبہ ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ اس کے دودھ پلانے کے دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا۔ اس عورت نے دعا کی: اے اللہ تو میرے بیٹے کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک وہ اس شخص کی مانند (امیر کبیر) نہیں ہو جاتا۔ بچے نے کہا: اے اللہ مجھے اس کی مانند نہ کرنا پھر وہ دوبارہ چھاتی کی طرف گیا (اور دودھ پینے لگا) پھر وہاں سے ایک عورت گزری جس پر لعنت کی گئی تھی۔ اس عورت نے دعا کی: اے اللہ تو میرے بیٹے کو اس عورت کی مانند نہ کرنا، تو اس بچے نے دعا کی تو مجھے اس کی مانند کر دینا۔ جہاں تک سوار کا معاملہ تھا تو وہ شخص کافر تھا۔ جہاں تک اس عورت کا معاملہ تھا، تو لوگوں نے اس کے بارے میں یہ کہا: تھا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو وہ عورت یہ کہہ رہی تھی، میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ لوگ یہ کہتے تھے کہ اس نے چوری کی ہے، تو وہ عورت یہ کہتی تھی کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6488
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3466). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6454»