کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اولیاء میں انبیاء کے علاوہ معجزات ان کی نیات اور ان کے خالق کے ساتھ ان کے ضمیروں کی صحت کے مطابق ہوتی ہیں
حدیث نمبر: 6487
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يُسْلِفُ النَّاسَ فِي بَنِي إِِسْرَائِيلَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا فُلانُ ، أَسْلِفْنِي سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ ، قَالَ : نَعَمْ ، إِِنْ أَتَيْتَنِي بِوَكِيلٍ ، قَالَ : اللَّهُ وَكِيلِي ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، نَعَمْ ، قَدْ قَبِلْتُ اللَّهَ وَكِيلا ، فَأَعْطَاهُ سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ ، وَضَرَبَ لَهُ أَجَلًَا ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ بِالْمَالِ لِيَتَّجِرَ فيهِ ، وَقَدَّرَ اللَّهُ أَنْ حَلَّ الأَجَلُ ، وَارْتَجَّ الْبَحْرُ بَيْنَهُمَا ، وَجَعَلَ رَبُّ الْمَالِ يَأْتِي السَّاحِلَ يَسْأَلُ عَنْهُ ، فَيَقُولُ الَّذِي يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ : تَرَكْنَاهُ بِمَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ رَبُّ الْمَالِ : اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي فُلانٍ بِمَا أَعْطَيْتُهُ بِكَ ، قَالَ : وَيَنْطَلِقُ الَّذِي عَلَيْهِ الْمَالُ ، فَيَنْحَتُ خَشَبَةً ، وَيَجْعَلُ الْمَالَ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ كَتَبَ صَحِيفَةً : مِنْ فُلانٍ إِِلَى فُلانٍ ، إِِنِّي دَفَعْتُ مَالَكَ إِِلَى وَكِيلِي ، ثُمَّ سَدَّ عَلَى فَمِ الْخَشَبَةِ ، فَرَمَى بِهَا فِي عُرْضِ الْبَحْرِ ، فَجَعَلَ يَهْوِي بِهَا حَتَّى رَمَى بِهَا إِِلَى السَّاحِلِ ، وَيَذْهَبُ رَبُّ الْمَالِ إِِلَى السَّاحِلِ ، فَيَسْأَلُ ، فَيَجِدُ الْخَشَبَةَ ، فَحَمَلَهَا ، فَذَهَبَ بِهَا إِِلَى أَهْلِهِ ، وَقَالَ : أَوْقِدُوا بِهَذِهِ ، فَكَسَرُوهَا ، فَانْتَثَرَتِ الدَّنَانِيرُ وَالصَّحِيفَةُ ، فَأَخَذَهَا ، فَقَرَأَهَا ، فَعَرَفَ ، وَتَقَدَّمَ الآخَرُ ، فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْمَالِ : مَالِي ، فَقَالَ : قَدْ دَفَعْتُ مَالِي إِِلَى وَكِيلِي ، إِِلَى مُوَكَّلٍ بِي ، فَقَالَ لَهُ : أَوْفَانِي وَكِيلُكَ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَكْثُرُ مِرَاؤُنَا وَلَغَظُنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا أَيُّهُمَا آمَنُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بنی اسرائیل میں ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے پاس آیا اور بولا: اے فلاں تم مجھے 600 دینار قرض دے دو۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ اگر تم میرے پاس کوئی ضمانتی لے آؤ (تو میں ایسا کر دیتا ہوں) اس نے کہا: اللہ تعالیٰ میرا ضامن ہے۔ اس شخص نے کہا: سبحان اللہ ٹھیک ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کو ضامن کے طور پر قبول کرتا ہوں۔ اس شخص نے اسے 600 دینار دیدیئے، اس نے اس کے ساتھ ایک مدت طے کی، پھر وہ دوسرا شخص سمندر پر سوار ہو کر مال لے کر گیا۔ تاکہ اس کے ذریعے تجارت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر دیا ہوا تھا کہ وہ مخصوص مدت گزر جائے تو وہ گزر گئی، لیکن سمندر ان دونوں آدمیوں کے درمیان رکاوٹ تھا۔ مال کا مالک شخص ساحل پر آتا۔ اور اس کے بارے میں دریافت کرتا۔ جن لوگوں سے اس نے اس دوسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے یہ ہی بتایا: ہم نے اسے فلاں فلاں جگہ پر چھوڑا تھا، تو مال کا مالک شخص یہ کہتا۔ اے اللہ فلاں شخص کے معاملے میں تو ہی میرا نگران ہے۔ میں نے تیری ضمانت پر وہ چیز اسے دی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ شخص جس کے ذمے رقم کی ادائیگی تھی وہ گیا اس نے ایک لکڑی لی اور اس کے اندر وہ مال رکھ دیا، پھر اس نے ایک صحیفہ تحریر کیا کہ یہ مال فلاں کی طرف سے فلاں کے لیے ہے۔ میں تمہارا مال اپنے ضامن کے سپرد کر رہا ہوں پھر اس نے لکڑی کے منہ کو بند کر دیا اور اس لکڑی کو سمندر میں ڈال دیا۔ وہ لکڑی سمندر میں تیرتی ہوئی ساحل تک آ گئی۔ اس مال کا مالک شخص ساحل پر آیا تاکہ اس بارے میں دریافت کرے۔ وہاں اسے لکڑی ملی اس نے اس لکڑی کو اٹھایا اور اسے لے کر اپنے گھر چلا گیا۔ اس نے اس لکڑی کو کاٹا تو اس میں سے دینار اور خط نکلا۔ اس شخص نے وہ خط لے کر اسے پڑھا تو وہ جان گیا (کہ یہ تو میرے ہی پیسے ہیں) پھر دوسرا شخص بھی آ گیا۔ مال کے مالک نے اس سے دریافت کیا میرا مال، تو دوسرے شخص نے کہا: میں نے اپنا مال اپنے وکیل کے سپرد کر دیا تھا۔ جسے میں نے ضامن بنایا تھا، تو پہلے شخص نے کہا: تمہارے وکیل نے مجھے پوری ادائیگی کر دی۔ “ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یاد ہے۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اسی دوران شور شرابہ زیادہ ہو گیا کہ ان دونوں میں سے کون شخص زیادہ ایمان دار ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6487
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني منكر - «الصحيحة» تحت الحديث (2845)، وأصله في «البخاري». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6453»