کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اس روایت کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل قرار دیتی ہے جنہوں نے انبیاء کے علاوہ اولیاء میں معجزات کے وجود کا انکار کیا ہے
حدیث نمبر: 6485
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً ، فَأَرَادَ أَنْ يَرْكَبَهَا ، فَالْتَفَتَتْ إِِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : إِِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا ، إِِنَّمَا خُلِقْنَا لِيُحْرَثَ عَلَيْنَا " ، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ " ، وَمَا هُمَا ثَمَّ ، قَالَ : " وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ ، فَأَخَذَ الذِّئْبُ الشَّاةَ ، فَتَبِعَهُ الرَّاعِي ، فَلَفَظَهَا ، ثُمَّ قَالَ : كَيْفَ لَكَ بِيَوْمِ السِّبَاعِ حَيْثُ لا يَكُونُ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي " ، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ " ، وَمَا هُمَا ثَمَّ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” ایک مرتبہ ایک شخص گائے کو لے کر جا رہا تھا۔ اس نے اس پر سوار ہونے کا ارادہ کیا تو گائے نے اس کی طرف توجہ کر کے کہا: ہمیں اس کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں اس لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ ہمارے ذریعہ کھیتی باڑی کی جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود افراد نے سبحان اللہ کہا:۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں۔ ابوبکر اور عمر بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں (کہ گائے کلام کر سکتی ہے) حالانکہ یہ دونوں صاحبان وہاں موجود نہیں تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ایک مرتبہ ایک شخص اپنی بکریاں لے کر جا رہا تھا۔ بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑا۔ چرواہا بھیڑیے کے پیچھے گیا۔ اس نے اس بکری کو اس سے چھڑوا لیا، تو بھیڑیے نے کہا: اس دن تم کیا کرو گے جو درندوں کی حکومت کا دن ہو گا۔ اس دن ان بکریوں کا نگران میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود افراد نے سبحان اللہ کہا:۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں (کہ بھیڑیا کلام کر سکتا ہے) حالانکہ یہ دونوں صاحبان وہاں موجود نہیں تھے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6485
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (7/ 242 / 2186): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6451»