کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مقام محمود وہ مقام ہے جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے شفاعت کریں گے
حدیث نمبر: 6480
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ حَبِيبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْبَرًا مِنْ نُورٍ ، وَإِِنِّي لَعَلَى أَطْوَلِهَا وَأَنْوِرِهَا ، فَيَجِيءُ مُنَادٍ ، فَيُنَادِي : أَيْنَ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ الأَنْبِيَاءُ : كُلُّنَا نَبِيٌّ أُمِّيٌّ ، فَإِِلَى أَيِّنَا أُرْسِلَ ؟ فَيَرْجِعُ الثَّانِيَةَ ، فَيَقُولُ : أَيْنَ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ الْعَرَبِيُّ ؟ قَالَ : فَيَنْزِلُ مُحَمَّدٌ حَتَّى يَأْتِيَ بَابَ الْجَنَّةِ ، فَيَقْرَعَهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ أَوْ أَحْمَدُ ، فَيُقَالُ : أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِِلَيْهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُ ، فَيَدْخُلُ ، فَيَتَجَلَّى لَهُ الرَّبُّ ، وَلا يَتَجَلَّى لِنَبِيٍّ قَبْلَهُ ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ أَحَدٌ بِهَا مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أُمَّتِي أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ ، ثُمَّ يَرْجِعُ الثَّانِيَةَ ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ ، ثُمَّ يَرْجِعُ الثَّالِثَةَ ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ ، ثُمَّ يَرْجِعُ ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا ، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَهُ ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدُ ، ارْفَعْ رَأْسَكَ ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَنْ قَالَ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مُحَمَّدُ ، لَسْتَ هُنَاكَ ، تِلْكَ لِي ، وَأَنَا الْيَوْمَ أَجْزِي بِهَا " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” قیامت کے دن ہر نبی کے لیے نور کا منبر ہو گا اور میں سب سے زیادہ اونچے اور سب سے زیادہ نورانی منبر پر ہوں گا، پھر ایک منادی آ کر یہ اعلان کرے گا۔ اُمی نبی کہاں ہیں؟ تو انبیاء جواب دیں گے کہ ہم میں سے ہر ایک اُمی نبی ہے۔ ہم میں کسے بلایا گیا ہے، وہ دوسری مرتبہ واپس آئے گا اور دریافت کرے گا۔ اُمی عربی نبی کہاں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتریں گے اور جنت کے دروازے پر آ کر اس کو کھٹکھٹائیں گے۔ (اندر سے) داروغہ پوچھے گا کون ہے، تو آپ جواب دیں گے محمد (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) أحمد۔ دریافت کیا جائے گا کیا انہیں بلایا گیا ہے، تو وہ جواب دیں گے جی ہاں، تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہ اس کے اندر داخل ہوں گے، تو ان کا پروردگار ان کے سامنے تجلی کرے گا۔ ان سے پہلے کسی اور نبی کے لیے پروردگار نے تجلی نہیں کی ہو گی، تو وہ اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے۔ اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی نے بھی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی۔ ان سے کہا: جائے گا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنا سر اٹھاؤ تم بات کرو اسے سنا جائے گا۔ تم شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا۔ مانگو وہ دیا جائے گا۔ وہ عرض کریں گے: اے پروردگار میری امت، میری امت، تو ان سے کہا: جائے گا تم ہر اس شخص کو (جہنم سے) نکال لو۔ جس کے دل میں جو کے وزن جتنا (ایمان ہو) پھر وہ دوبارہ آ کر اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے۔ اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے بھی ان کلمات کے ذریعے حمد بیان نہیں کی ہو گی۔ اور ان کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اس حمد کو بیان نہیں کرے گا، تو ان سے کہا: جائے گا محمد اپنا سر اٹھاؤ۔ بات کرو اسے سنا جائے گا، شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا۔ مانگو وہ دیا جائے گا، پھر ان سے کہا: جائے گا تم ایسے ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جس کے دل میں گندم کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو، پھر وہ تیسری مرتبہ آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے۔ اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی اور ان کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرے گا، تو ان سے کہا: جائے گا جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں رائی جتنا ایمان ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا کر سجدے میں چلے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی ایسے کلمات کے ذریعے حمد بیان کریں گے کہ ان کلمات کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: جائے گا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنا سر اٹھاؤ۔ بات کرو اسے سنا جائے گا۔ شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا۔ مانگو وہ دیا جائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے اے میرے پروردگار جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا: ہو (اسے بھی جہنم سے نکلنے کا حکم دیا جائے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: جائے گا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے ساتھ تمہارا واسطہ نہیں ہے، یہ میرے ساتھ مخصوص ہے اور آج میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔