کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ جو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض سے پئے گا اس کے بعد اس کا چہرہ سیاہ نہیں ہوگا
حدیث نمبر: 6457
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، وأبي اليمان الهوزني ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الأَخْنَسِ السُّلَمِيَّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا سَعَةُ حَوْضِكَ ؟ ، قَالَ : " كَمَا بَيْنَ عَدْنٍ إِِلَى عَمَّانَ ، وَأَنَّ فِيهِ مَثْعَبَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ " ، قَالَ : فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا ، وَلَمْ يَسْوَدْ وَجْهُهُ أَبَدًا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ : " مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ " ، وَفِي خَبَرِ ثَوْبَانَ الَّذِي ذَكَرْنَا : " مِيزَابَانِ أَحَدُهُمَا دُرٌّ وَالآخَرُ ذَهَبٌ " ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌّ ، لأَنَّ أَحَدَ الْمَثْعَبَيْنِ يَكُونُ مِنْ ذَهَبٍ ، وَالآخَرُ مِنْ فِضَّةٍ قَدْ رُكِّبَ عَلَيْهِ الدُّرُّ حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ .
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے اور اس میں دو پرنالے ہیں، جو سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے حوض (کا مشروب) کیسا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید ہو گا۔ اور چکھنے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہو گی، جو شخص اس میں سے پی لے گا۔ وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اور اس کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہو گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ اس کے دو پرنالے سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں جبکہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہماری ذکر کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ اس کے دو پرنالے ہیں۔ جن میں سے ایک موتی سے بنا ہوا ہے اور ایک سونے سے بنا ہوا ہے، تو ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ ان دو پرنالوں میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہو گا۔ اور دوسرے کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ وہ چاندی سے بنا ہوا اور اس پر موتی لگا دیئے ہوں۔ اس طرح ان دونوں روایات میں تضاد باقی نہیں رہے گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ اس کے دو پرنالے سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں جبکہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہماری ذکر کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ اس کے دو پرنالے ہیں۔ جن میں سے ایک موتی سے بنا ہوا ہے اور ایک سونے سے بنا ہوا ہے، تو ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ ان دو پرنالوں میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہو گا۔ اور دوسرے کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ وہ چاندی سے بنا ہوا اور اس پر موتی لگا دیئے ہوں۔ اس طرح ان دونوں روایات میں تضاد باقی نہیں رہے گا۔