کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر تیسری خبر جو علم کے اصلی ذرائع سے نہ مانگنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے دو خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6450
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبَكَالِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ : قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا حَوْضُكَ الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْهُ ؟ ، فَقَالَ : " هُوَ كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى ، ثُمَّ يُمِدُّنِي اللَّهُ فِيهِ بِكُرَاعٍ لا يَدْرِي بَشَرٌ مِمَّنْ خُلِقَ أَيُّ طَرَفَيْهِ " ، قَالَ : فَكَبَّرَ عُمَرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا الْحَوْضُ ، فَيَزْدَحِمُ عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُقْتُلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَيَمُوتُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ يُورِدَنِيَ اللَّهُ الْكُرَاعَ فَأَشْرَبَ مِنْهُ " .
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس نے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض کتنا بڑا ہے۔ جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے، پھر اللہ تعالیٰ میرے لیے اس کی گہرائی کو بڑھا دے گا اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ کہ اس کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا کنارا کہاں ہے۔ راوی کہتے ہیں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاں تک حوض کا تعلق ہے، تو غریب مہاجرین کا اس پر ہجوم ہو گا، جنہیں اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا اور جو اللہ کی راہ میں (کوشش کرتے ہوئے) انتقال کر گئے مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے پاس لے جائے گا۔ اور میں اس میں سے پانی پیوں گا۔