کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نظریں پھیر لیتے جو انہیں ناپسندیدہ بات سناتا یا کوئی ناپسندیدہ حالت اختیار کرتا
حدیث نمبر: 6441
حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَفَهِمْتُهَا ، فَقُلْتُ : عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلا يَا عَائِشَةُ ، إِِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ : " قَدْ قُلْتُ : عَلَيْكُمْ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا: السام علیکم (یعنی آپ کو موت آئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علیکم (یعنی تمہیں بھی آئے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ان لوگوں کی بات سمجھ لی۔ میں نے کہا: تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت بھی ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! آرام سے، اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا: ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے بھی علیکم کہہ دیا ہے (یعنی تمہیں بھی آئے)