کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کو مسلمانوں کی ایذاء سے بچاتے تھے اور اپنی امت اور اپنی ذات کے درمیان حق قائم کرنے میں مساوات رکھتے تھے
حدیث نمبر: 6434
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْسِمُ شَيْئًا ، أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ مَعَهُ ، فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَالَ فَاسْتَقِدْ " ، فَقَالَ : قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز تقسیم کر رہے تھے۔ اس دوران ایک شخص آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی اسے ماری، جو اس کے چہرے پر لگی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم آؤ اور بدلہ لے لو۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے معاف کیا۔