کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ پیش کیا جو ان کی امت کو آخرت میں وعدہ کیا گیا
حدیث نمبر: 6432
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ هُوَ ابْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، وَكَانَ إِِذَا صَلَّى لَنَا خَفَّفَ ، ثُمَّ لا نَسْمَعُ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ : " رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ " ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ أَسْرَعَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَاعَكُمْ طُولُ صَلاتِي وَقِيَامِي " ، قُلْنَا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَمِعْنَاكَ تَقُولُ : " رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مِنْ شَيْءٍ وُعِدْتُمُوهُ فِي الآخِرَةِ إِِلا قَدْ عُرِضَ عَلَيَّ فِي مَقَامِي هَذَا ، حَتَّى لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، فَأَقْبَلَ إِِلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى دَنَا بِمَكَانِي هَذَا ، فَخَشِيتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ ، فَقُلْتُ : رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ ، فَصَرَفَهَا عَنْكُمْ ، فَأَدْبَرَتْ قِطَعًا كَأَنَّهَا الزَّرَابِيُّ ، فَنَظَرْتُ إِِلَيْهَا نَظْرَةً ، فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ حُرْثَانَ أَخَا بَنِي غِفَارٍ مُتَّكِئًا فِي جَهَنَّمَ عَلَى قَوْسِهِ ، وَإِِذَا فِيهَا الْحِمْيَرِيَّةُ صَاحِبَةُ الْقِطَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا ، فَلا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلا هِيَ أَرْسَلْتَهَا " .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو مختصر پڑھاتے تھے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ کہتے ہوئے سنا۔ اے میرے پروردگار میں بھی ان میں ہوں، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز پکڑنے کے لیے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی سے نماز ادا کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ میری نماز اور قیام کی طوالت نے تمہیں گھبراہٹ کا شکار کیا ہے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم - ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ اے میرے پروردگار میں ان میں موجود ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، آخرت کے حوالے سے تمہارے ساتھ جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ابھی میرے اس جگہ قیام کے دوران میرے سامنے پیش کی گئی ہے، یہاں تک کہ جہنم میرے سامنے پیش کی گئی، اس کا کچھ حصہ میری طرف آیا، یہاں تک کہ میری اس جگہ کے قریب ہو گیا، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے، تو میں نے عرض کی: اے میرے پروردگار میں ان لوگوں میں موجود ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تم لوگوں سے پھیر دیا، پھر اس کے ٹکڑے مڑ گئے، جیسے وغالیچے ہوں، میں نے اس کی طرف دیکھا تو بنو غفار سے تعلق رکھنے والا عمرو بن حرثان جہنم میں اپنی کمان سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ اور جہنم میں ایک حمیری عورت بھی تھی جو بلی کی مالکن تھی۔ اس نے بلی کو باندھ دیا تھا۔ اور وہ اسے کھانے کے لیے کچھ دیتی بھی نہیں تھی اور اسے چھوڑتی بھی نہیں تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6432
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [حَرْمَلَةُ هُوَ ابْنُ يَحْيَى] قال الشيخ: تابعه أحمد بن صالح: عند الطبراني في «الكبير» (17/ 315 / 872)، دون ذكر الآخر؛ وهو - في نقدي - ابن لهيعة: فقد أخرجه الطبراني في «المعجم الأوسط» (1/ 181 / 2) من طريق عبد الله بن يوسف، قال: أنا ابن لهيعة، عن يزيد بن أبي حبيب ... به، وقال: «لم يروه عن ابن شماسة إلاَّ يزيد بن أبي حبيب». والسند صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6398»