کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر جنت اور جہنم دکھائی
حدیث نمبر: 6429
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِيَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ ، فَقَالَ : " سَلُونِي ، فَوَاللَّهِ لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ " ، قَالَ : فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ، وَخَشُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ عَظِيمٍ ، قَالَ أَنَسٌ : فَجَعَلْنَا نَلْتَفِتُ يَمِينًَا وَشِمَالا ، فَلا أَرَى كُلَّ رَجُلٍ إِِلا قَدْ دَسَّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَلُونِي ، فَوَاللَّهِ لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ ، قَالَ : " أَبُوكَ حُذَافَةُ " ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِِسْلامِ دَيْنًَا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولا ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَأَيْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، إِِنَّهَا صُوِّرَتْ لِيَ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ ، فَأَبْصَرْتُهُمَا دُونَ ذَلِكَ الْحَائِطِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کئے گئے یہاں تک کہ سوالات کر کے آپ کو پریشان کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ مجھ سے سوال کرو اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں اسے تمہارے سامنے بیان کر دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگ رک گئے۔ انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی بڑا واقعہ رونما نہ ہو جائے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا، ہمیں جو بھی شخص نظر آیا اس نے اپنا سر اپنے کپڑے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: تم لوگ مجھ سے سوال کرو۔ اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہارے سامنے اسے بیان کر دوں گا۔ مسجد کے کونے میں ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہیں۔ (یعنی اس پر ایمان رکھتے ہیں) اور ہم فتنوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے آج کے دن کی طرح کبھی بھی بھلائی اور برائی ایک ساتھ نہیں دیکھی۔ ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا۔ “ میں نے اس دیوار کے پرے ان دونوں کو دیکھ لیا۔