کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر وصف کہ سلیمان کی دعا جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شیطان کو چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 6419
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَأْتِي الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلاتِي ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ ، فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ فَأَرْبِطَهُ إِِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِيَ الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا ، فَتَنْظُرُوا إِِلَيْهِ كُلُّكُمْ " ، قَالَ : " ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي سورة ص آية 35 " ، قَالَ : " فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاشِعًا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جنات میں سے ایک عفریت گزشتہ رات میرے پاس آیا تاکہ میری نماز کو خراب کرے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر ق ابودیدیا۔ پہلے میں نے یہ ارادہ کیا میں اسے پکڑ کر مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیتا ہوں، یہاں تک کہ تم سب لوگ اسے دیکھ لو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر مجھے اپنا بھائی سیدنا سلیمان علیہ السلام کا یہ قول یاد آیا۔ ” اے میرے پروردگار! تو میری مغفرت کر دے اور مجھے ایسا ملک عطا کر جو میرے بعد کسی اور کو نہ مل سکے۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو سرنگوں کر کے واپس کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6419
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2343). تنبيه!! رقم (2343) = (2349) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6385»