کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر اس علم کا جو اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کہ جب وہ ظاہر ہو تو انہیں تسبیح، حمد اور استغفار کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 6411
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ قَبْلَ مَوْتِهِ أَنْ يَقُولَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، وَأَتُوبُ إِِلَيْهِ " ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّكَ لِتُكْثِرَ مِنْ دُعَاءٍ ، لَمْ تَكُنْ تَدْعُو بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِِنَّ رَبِّي جَلَّ وَعَلا أَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَيُرِينِي عِلْمًا فِي أُمَّتِي ، فَأَمَرَنِي إِِذَا رَأَيْتُ ذَلِكَ الْعِلْمَ أَنْ أُسَبِّحَهُ ، وَأَحْمَدَهُ ، وَأَسْتَغْفِرَهُ ، وَإِِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، فَتْحُ مَكَّةَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال سے کچھ عرصہ پہلے بکثرت «سُبْحَانَ الله وَبِحَمْدِهِ، اسْتَغْفِرُ اللهَ، وَاتُوبُ إِلَيْهِ» پڑھا کرتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ یہ دعا بکثرت پڑھتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے آپ یہ دعا نہیں پڑھا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ وہ عنقریب مجھے میری اُمت کے بارے میں نشانی دکھا دے گا۔ اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ جب میں یہ نشانی دیکھ لوں تو اس کی تسبیح بیان کروں۔ اس کی حمد بیان کروں اور اس سے مغفرت طلب کروں، تو میں نے وہ چیز دیکھ لی ہے۔ (وہ یہ آیت ہے) ”جب اللہ کی مدد اور آ گئی “ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ یہ دعا بکثرت پڑھتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے آپ یہ دعا نہیں پڑھا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھے یہ بتایا ہے کہ وہ عنقریب مجھے میری اُمت کے بارے میں نشانی دکھا دے گا۔ اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ جب میں یہ نشانی دیکھ لوں تو اس کی تسبیح بیان کروں۔ اس کی حمد بیان کروں اور اس سے مغفرت طلب کروں، تو میں نے وہ چیز دیکھ لی ہے۔ (وہ یہ آیت ہے) ”جب اللہ کی مدد اور آ گئی “ اس سے مراد فتح مکہ ہے۔