کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کیے
حدیث نمبر: 6409
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَيْءٍ ، فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ عُمَرُ ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ لا يُجِيبُكَ ، قَالَ عُمَرُ : فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي حَتَّى قَدَّمْتُهُ أَمَامَ النَّاسِ ، وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِي قُرْآنٍ ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر آپ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر دریافت کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں کوئی جواب نہیں دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا: اے عمر! تمہاری ماں تمہیں روئے، تم نے تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی اور لوگوں کے آگے آ کر چلنے لگا۔ مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ میں نے کسی کو سنا جو بلند آواز میں مجھے بلا رہا تھا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے آپ کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ پسندیدہ ہے، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ (یعنی پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہے) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” بے شک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے۔ “