کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر وجہ جس کی بنا پر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی
حدیث نمبر: 6392
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِِلَى الأَعَاجِمِ ، فَقَالُوا لَهُ : أَنَّهُمْ لا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِِلا بِخَاتَمٍ فِيهِ نَقْشٌ ، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاتَمٍ فِضَّةٍ ، فَنَقَشَ فِيهِ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمی (حکمرانوں) کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے آپ کو بتایا: وہ لوگ صرف اس خط کو پڑھتے ہیں، جس پر کوئی ایسی مہر لگی ہو جو نقش ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت چاندی کی انگوٹھی بنائی گئی۔ اس میں ” محمد رسول اللہ “ نقش کیا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6392
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المختصر» (58/ 74): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6358»