کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ حالت میں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گھر والے ہمارے بیان کردہ طریقے پر برابر تھے
حدیث نمبر: 6372
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَقَدْ كَانَ " يَأْتِي عَلَى أَهْلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرٌ مَا يُخْبَزُ فِيهِ " ، قُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَتْ : " كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا ، كَانَ لَهُمْ لَبَنٌ يُهْدُونَ مِنْهُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا بعض اوقات کوئی ایسا مہینہ بھی گزرتا کہ اس میں انہیں روٹی نہیں ملتی تھی۔ راوی نے عرض کی: اے ام المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کھایا کرتے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہمارے کچھ انصاری پڑوسی تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے ان کے پاس دودھ ہوتا تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر بھیج دیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6372
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (6314). تنبيه!! رقم (6314) = (6348) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6338»