کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اور بہادر تھے
حدیث نمبر: 6369
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ " خَيْرَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، فَانْطَلَقُوا قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَهُمْ إِِلَى الصَّوْتِ ، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ ، وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ : " لَمْ تُرَاعُوا " ، يَرُدُّهُمْ ، ثُمَّ قَالَ لِلْفَرَسِ : " وَجَدْنَاهُ بَحْرًا وَإِِنَّهُ لَبَحْرٌ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بتائی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر تھے۔ سب سے زیادہ سخی تھے۔ سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک مرتبہ اہل مدینہ خوف کا شکار ہوئے لوگ آواز کی سمت گئے تو ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے پہلے ہی آواز کی طرف چلے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے۔ اس پر زین موجود نہ تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں تلوار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: تم لوگ گھبراؤ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو واپس کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھوڑے کے بارے میں فرمایا: ہم نے اسے سمندر پایا بے شک یہ سمندر ہے (یعنی یہ انتہائی تیز رفتار ہے)