کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں عطا کیں
حدیث نمبر: 6363
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْتُمْ تَنْتَثِلُونَهَا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” مجھے جامع کلمات کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے۔ “ ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے جامع کلمات کے ہمراہ مبعوث کیا گیا۔ “ میری مدد کی گئی ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا، تو میرے پاس زمین کے خزانوں کی چابیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو (دنیا سے) تشریف لے گئے اور تم لوگ وہ چیزیں حاصل کر رہے ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6363
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر التعليق. * [تَنْتَثِلُونَهَا] قال الشيخ: بوزن (تفتعلونها) مِنَ النثل - بالنون والمثلثة - أي: تستخرجونها، وكان الأصل (تنشلونها)! فصحَّحته من «البخاري» (2977)، و «مسلم» (2/ 64)، والنسائي في «الكبرى» (3/ 3 - 4)، وأخرجه أبو عوانه (1/ 395)، وأحمد (2/ 264). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6329»