کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اور دنیا کی مثال ایسی دی جو انہوں نے بیان کی
حدیث نمبر: 6352
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَرَ فِي جَنْبِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : " يَا عُمَرُ ، مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ، وَمَا لِلدُّنْيَا وَلِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِِلا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرْكَهَا " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ جس کا نشان آپ کے پہلو پر لگ چکا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! اگر آپ اس سے زیادہ نرم بچھونا استعمال کرتے (تو یہ مناسب ہوتا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا واسطہ اور دنیا کا مجھ سے کیا واسطہ؟ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میری اور دنیا کی مثال یوں ہے جیسے کوئی سوار شخص تیز گرم دن میں سفر کرتے ہوئے گھڑی بھر کے لئے کسی درخت کے سائے میں آئے اور پھر وہ اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 6353
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ ، فَرَأَى عَلَى بَابِهَا سِتْرًا ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا ، قَالَ : وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِِلا بَدَأَ بِهَا ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَرَآهَا مُهْتَمَّةً ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقَالَتْ : جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَدْخُلْ ، فَأَتَاهُ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا وَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنَا وَالدُّنْيَا ، وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ " ، فَذَهَبَ إِِلَى فَاطِمَةَ ، فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " قُلْ لَهَا : فَلْتُرْسِلْ بِهِ إِِلَى بَنِي فُلانٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے آپ نے ان کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا دیکھا تو گھر کے اندر تشریف نہیں لائے۔ آپ جب بھی گھر میں تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے تھے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر آئے اور انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان دیکھا تو دریافت کیا: کیا ہوا؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، لیکن آپ گھر کے اندر نہیں آئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! فاطمہ اس بات پر پریشان ہیں کہ آپ ان کے ہاں آئے لیکن گھر کے اندر تشریف نہیں لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا اور دنیا کا کیا واسطہ میرا اور نقش و نگار کا کیا واسطہ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیجئے کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے کہو کہ اس (پردے کو) بنو فلاں کو بھجوا دے۔