کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اس فانی دنیا سے کم سے کم لینا چاہتے تھے
حدیث نمبر: 6350
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ كَانَ عِنْدِي أُحُدٌ ذَهَبًا ، لأَحْبَبْتُ أَنْ لا يَأْتِي عَلَيَّ ثَلاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ لا أَجِدُ مَنْ يَتَقَبَّلَهُ مِنِّي ، لَيْسَ شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند ہو گی کہ تین دن گزرنے سے پہلے میرے پاس ان میں سے ایک دینار بھی باقی نہ رہے، سوائے اس دینار کے، جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لئے سنبھال کر رکھا ہو۔ “
حدیث نمبر: 6351
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيُّ ، قَالَ : لَقِيتُ بِلالا مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا بِلالُ ، أَخْبِرْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : " مَا كَانَ لَهُ مِنْ شَيْءٍ ، وَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَلِي ذَلِكَ مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ إِِذَا أَتَاهُ الإِِنْسَانُ الْمُسْلِمُ ، فَرَآهُ عَارِيًا ، يَأْمُرُنِي ، فَأَنْطَلِقُ ، فَأَسْتَقْرِضُ ، فَأَشْتَرِي الْبُرْدَةَ أَوِ النَّمِرَةَ ، فَأَكْسُوهُ وَأَطْعِمُهُ ، حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : يَا بِلالُ ، إِِنَّ عِنْدِي سَعَةً ، فَلا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِِلا مِنِّي ، فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ ، تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ قُمْتُ أُؤَذِّنُ بِالصَّلاةِ ، فَإِِذَا الْمُشْرِكُ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : يَا حَبَشِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا لَبَّيَهُ ، فَتَجَهَّمَنِي ، وَقَالَ لِي قَوْلا غَلِيظًا ، وَقَالَ : أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : قَرِيبٌ ، قَالَ لِي : إِِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعٌ ، فَآخُذُكَ بِالَّذِي عَلَيْكَ ، فَإِِنِّي لَمْ أُعْطِكَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ مِنْ كَرَامَتِكَ عَلَيَّ ، وَلا كَرَامَةَ صَاحِبِكَ ، وَلَكِنِّي إِِنَّمَا أَعْطَيْتُكَ لِتَجِبَ لِي عَبْدًا ، فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ النَّاسُ ، فَانْطَلَقْتُ ، ثُمَّ أَذَّنْتُ بِالصَّلاةِ ، حَتَّى إِِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ ، رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى أَهْلِهِ ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ ، فَأَذِنَ لِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ ، إِِنَّ الْمُشْرِكَ الَّذِي ذَكَرْتُ لَكَ أَنِّي كُنْتُ أَتَدَيَّنُ مِنْهُ قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا ، وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي ، وَلا عِنْدِي ، وَهُوَ فَاضِحِي ، فَأْذَنْ لِي أَنُوءُ إِِلَى بَعْضِ هَؤُلاءِ الأَحْيَاءِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللَّهُ رَسُولَهُ مَا يَقْضِي عَنِّي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِِذَا شِئْتَ اعْتَمَدْتَ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ مَنْزِلِي ، فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجُعْبَتِي وَمِجَنِّي وَنَعْلِي عِنْدَ رَأْسِي ، وَاسْتَقْبَلْتُ بِوَجْهِي الأُفُقَ ، فَكُلَّمَا نِمْتُ سَاعَةً اسْتَنْبَهْتُ ، فَإِِذَا رَأَيْتُ عَلَيَّ لَيْلا نِمْتُ ، حَتَّى أَسْفَرَ الصُّبْحُ الأَوَّلُ ، أَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ ، فَإِِذَا إِِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو : يَا بِلالُ ، أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ ، فَإِِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ مُنَاخَاتٌ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبْشِرْ ، فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِقَضَائِكَ ، فَحَمِدْتُ اللَّهَ ، وَقَالَ : أَلَمْ تَمَرَّ عَلَى الرَّكَائِبِ الْمُنَاخَاتِ الأَرْبَعِ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : إِِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ ، وَمَا عَلَيْهِنَّ كِسْوَةٌ وَطَعَامٌ أَهْدَاهُنَّ إِِلَيَّ عَظِيمُ فَدَكَ ، فَاقْبِضْهُنَّ ، ثُمَّ اقْضِ دَيْنَكَ ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ، فَحَطَطْتُ عَنْهُنَّ أَحْمَالَهُنَّ ، ثُمَّ عَقَلْتُهُنَّ ، ثُمَّ عَمَدْتُ إِِلَى تَأْذِينِ صَلاةِ الصُّبْحِ ، حَتَّى إِِذَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خَرَجْتُ لِلْبَقِيعِ ، فَجَعَلْتُ أُصْبُعَيَّ فِي أُذُنِي ، فَنَادَيْتُ : مَنْ كَانَ يَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنًا فَلْيَحْضُرْ ، فَمَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَقْضِي ، وَأَعْرِضُ فَأَقْضِي ، حَتَّى إِِذَا فَضَلَ فِي يَدَيَّ أُوقِيَّتَانِ أَوْ أُوقِيَّةٌ وَنِصْفٌ ، انْطَلَقْتُ إِِلَى الْمَسْجِدِ ، وَقَدْ ذَهَبَ عَامَّةُ النَّهَارِ ، فَإِِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحْدَهُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ ؟ فَقُلْتُ : قَدْ قَضَى اللَّهُ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَضَلَ شَيْءٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهَا ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ ، دَعَانِي ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ مِمَّا قِبَلَكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : هُوَ مَعِي لَمْ يَأْتِنَا أَحَدٌ ، فَبَاتَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحَ ، فَظَلَّ فِي الْمَسْجِدِ الْيَوْمَ الثَّانِي ، حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ النَّهَارِ ، جَاءَ رَاكِبَانِ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا ، فَكَسَوْتُهُمَا وَأَطْعَمْتُهُمَا ، حَتَّى إِِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ ، دَعَانِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ ؟ فَقُلْتُ : قَدْ أَرَاحَكَ اللَّهُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ شَفَقًا أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ ، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَاءَ أَزْوَاجَهُ فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ ، حَتَّى أَتَى مَبِيتَهُ ، فَهَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ " .
عبداللہ ہوزنی بیان کرتے ہیں: میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے کہا: اے بلال آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خرچ کیسے چلتا تھا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، جب سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا اس دن سے آپ کے وصال تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں جب کوئی مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ دیکھتے کہ اس کے پاس مناسب کپڑے نہیں ہیں، تو آپ مجھے حکم دیتے میں جاتا آپ کے نام پر قرض لیتا۔ اس کے ذریعے کپڑا یا چادر خریدتا اور اس شخص کو پہننے کے لئے دیدیتا اور اس شخص کو کھانا کھلا دیتا، یہاں تک کہ ایک مشرک شخص میرے پاس آیا اور بولا: اے بلال میرے پاس گنجائش ہے تم صرف مجھ سے قرض لیا کرو میں نے ایسا ہی کیا۔ ایک دن میں نے وضو کیا میں نماز کے لئے اذان دینے کے لئے اٹھنے لگا تو وہ مشرک شخص کچھ تاجروں کے ساتھ آیا جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا: اے حبشی! میں نے کہا: کیا ہے تو اس نے مجھے برا بھلا کہا: اور میرے بارے میں سختی سے کام لیا۔ اس نے دریافت کیا: کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ مہینہ ختم ہونے میں کتنے دن رہ گئے ہیں۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں تھوڑا ہی وقت ہے۔ اس نے مجھ سے کہا: مہینہ ختم ہونے میں چار دن باقی رہ گئے ہیں، پھر میں نے تم سے وہ وصولی کر لینی ہے جو تمہارے ذمے لازم ہے، میں نے تمہیں قرض اس لئے نہیں دیا تھا کہ تم میرے نزدیک معزز ہو یا تمہارے آقا میرے نزدیک معزز ہیں۔ میں نے تمہیں قرض اس لئے دیا تھا تاکہ مجھے (قرض وصول نہ ہونے کی صورت میں) غلام حاصل ہو جائے، تو میں تم سے بکریاں چرواؤں گا، جس طرح تم پہلے چرایا کرتے تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی پریشان ہو گیا جس طرح لوگ پریشان ہوتے ہیں۔ خیر میں گیا میں نے نماز کے لئے اذان دی، یہاں تک کہ جب میں نے عشاء کی نماز ادا کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے مجھے اجازت عطا کی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ وہ مشرک جس کا میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا تھا کہ میں اس سے قرض لیتا ہوں۔ اس نے مجھے اس اس طرح کی باتیں کی ہیں اور آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے جو آپ میری طرف سے ادا کر دیں اور میرے پاس بھی نہیں ہے اور وہ شخص مجھے رسوا کر دے گا۔ آپ مجھے اجازت دیجئے تاکہ میں ان قبائل کی طرف جاؤں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اتنا رزق عطا کر دے کہ وہ میرا قرض ادا کر دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم یہ چاہتے ہو تو ایسا کر لو، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نکل کر اپنے گھر آیا۔ میں نے اپنی تلوار اپنا ترکش اپنی ڈھال اپنے جوتے اپنے سرہانے رکھ لئے۔ میں نے اپنا رُخ افق کی طرف کیا۔ میں جب بھی تھوڑی دیر کے لئے سوتا تھا، تو فوراً بیدار ہو جاتا تھا، لیکن اس رات میں ایسا سویا کہ صبح صادق ہو گئی۔ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا اسی دوران ایک شخص دوڑتا ہوا آیا وہ کہہ رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ میں اٹھا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہاں چار سواریاں موجود تھیں جن پر ان کے پالان وغیرہ بندھے ہوئے تھے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: تمہارے لئے خوشخبری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے قرض کی ادائیگی کا بندوبست کر دیا ہے، تو میں نے اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارا گزر ان چار سواریوں کے پاس نہیں ہوا جو باندھی ہوئی تھیں۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سواریاں اور ان پر موجود کپڑے اور کھانا تمہارے ہوئے، یہ سب چیزیں مجھے فدک کے امیر نے تحفے کے طور پر بھیجی ہیں۔ تم انہیں حاصل کر لو اور اپنا قرض ادا کر دو۔ سیدنا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے ان کے اوپر سے پالان اتار لیا اور پھر انہیں باندھ دیا پھر میں صبح کی نماز کے لئے اذان دینے گیا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو میں نکل کر بقیع کے میدان میں آیا۔ میں نے اپنی انگلیاں کانوں میں دیں اور بلند آواز میں اعلان کیا جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرض واپس لینا تھا وہ آ جائے اس کے بعد میں خرید و فروخت کرتا رہا اور قرض ادا کرتا رہا، یہاں تک کہ میرے ہاتھ میں دو اوقیہ یا ڈیڑھ اوقیہ باقی بچ گئے۔ میں مسجد کی طرف آیا دن کا زیادہ حصہ رخصت ہو چکا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اکیلے تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تمہاری کیا صورت حال ہے۔ میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے ہر وہ چیز ادا کروا دی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے لازم تھی، کوئی بھی چیز (یعنی قرض) باقی نہیں رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی چیز باقی بچی ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دیکھو کہ اس کے ذریعے مجھے آرام پہنچانا پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کر لی تو آپ نے مجھے بلایا آپ نے دریافت کیا تمہاری کیا صورت حال ہے۔ میں نے عرض کی: وہ چیز میرے پاس ہے۔ ہمارے پاس کوئی بھی نہیں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رات مسجد میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ اگلا دن بھی مسجد میں رہے، یہاں تک کہ دن کا آخری حصہ آ گیا تو دو سوار آئے۔ میں ان دونوں کو ساتھ لے کر گیا۔ میں نے ان دونوں کو پہننے کے لئے کپڑے لے کر دیئے۔ انہیں کھانا کھلایا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کر لی، تو آپ نے مجھے بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا صورت حال ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس چیز کی طرف سے راحت پہنچا دی ہے (یعنی وہ بقیہ مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ ہو گیا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کی اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی، اس اندیشے کے تحت کہ آپ کو کہیں ایسی حالت میں موت نہ آ جائے کہ وہ مال آپ کے پاس موجود ہو، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے ہر ایک زوجہ محترمہ کو سلام کیا۔ یہاں تک آپ اس گھر میں آئے جہاں آپ نے رات بسر کرنی تھی۔ (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا) یہ وہ صورت حال تھی جس کے بارے میں تم نے مجھ سے دریافت کیا تھا۔