کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے گھروں میں کئی مہینوں تک ایندھن کی کمی رہی
حدیث نمبر: 6348
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : إِِنْ كُنَّا " لَنَنْظُرُ إِِلَى الْهِلالِ ، ثُمَّ الْهِلالِ ، ثُمَّ الْهِلالِ ، ثَلاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ ، وَمَا أُوقِدَتْ فِي بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ " ، قُلْتُ : يَا خَالَةُ ، فِيمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ ؟ ، قَالَتْ : " الأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالْمَاءُ ، إِِلا أَنَّهُ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانَ مِنَ الأَنْصَارِ ، نِعْمَ الْجِيرَانُ ، كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ ، فَكَانُوا يَمْنَحُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا ، فَكَانَ يَسْتَقِينَا مِنْهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ پہلی کا ایک چاند دیکھ لیتے تھے پھر اگلی پہلی کا چاند دیکھ لیتے تھے پھر اگلی پہلی کا چاند دیکھ لیتے تھے، یعنی دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے تھے لیکن اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: خالہ جان آپ لوگوں کا گزارا کیسے ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا دو سیاہ چیزوں پر کھجوروں اور پانی پر، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جو بہت اچھے پڑوسی تھے۔ ان لوگوں کے پاس دودھ دینے والے جانور تھے وہ ان کا دودھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر بھجوا دیتے تھے تو ہم وہ پی لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6348
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى نحوه (727). تنبيه!! رقم (727) = (729) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6314»