کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ابو ہریرہ کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6347
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، فَقُلْتُ : هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ ؟ فَقَالَ سَهْلٌ : " مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : هَلْ كَانَ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ ؟ ، قَالَ : " مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلا مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ حَتَّى قَبَضَهُ " ، فَقُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ ؟ ، قَالَ : " كُنَّا نَطْحَنُهُ ، فَنَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مَا طَارَ ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ ، فَأَكَلْنَاهُ " .
ابوحازم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھاتے تھے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا ہے اس وقت سے لے کہ آپ کے وصال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائی۔ میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں آپ لوگوں کے پاس چھلنیاں نہیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے فرمایا: جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اس وقت سے لے کہ اپنے وصال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی چھلنی نہیں دیکھی، میں نے دریافت کیا: تو آپ چھانے بغیر جَو کیسے کھا لیتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہم لوگ اسے پیس کر اس میں پھونک مارتے تھے جو چیز اڑنی ہوتی تھی وہ اڑ جاتی تھی جو باقی بچ جاتی تھی ہم اسے پکا کر کھا لیتے تھے۔