کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بعض وجہ جس کی بنا پر وہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے غور سے دیکھتے تھے
حدیث نمبر: 6339
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُصُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَقَارِبُوا بَيْنَهَا ، وَحَاذُوا بِالأَعْنَاقِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِِنِّي لأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصُّفُوفِ ، كَأَنَّهَا الْحَذْفُ " ، قَالَ مُسْلِمٌ : الْحَذْفُ : النَّقْدُ الصِّغَارُ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اپنی صفیں ملا کر رکھو ایک دوسرے کے قریب رہو گردنیں سیدھی رکھو، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے درمیان خالی جگہ میں یوں داخل ہوتا ہے جیسے وہ بھیڑ کا بچہ ہو۔ “ مسلم نامی راوی کہتے ہیں: حزف سے مراد بھیڑ کے بچے ہیں۔