کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ جبریل علیہ السلام نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن میں ان کا سینہ چاک کیا
حدیث نمبر: 6334
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ قَلْبَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : " هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لأَمَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ " ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِِلَى أُمِّهِ ، يَعْنِي : ظِئْرَهُ ، فَقَالُوا : إِِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ : قَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : شُقَّ صَدْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَبِيٌّ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، وَأُخْرِجَ مِنْهُ الْعَلَقَةُ ، وَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الإِِسْرَاءَ بِهِ ، أَمَرَ جِبْرِيلَ بِشَقِّ صَدْرِهِ ثَانِيًا ، وَأَخْرَجَ قَلْبَهُ فَغَسَلَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ مَكَانَهُ مَرَّتَيْنِ فِي مَوْضِعَيْنِ ، وَهُمَا غَيْرُ مُتَضَادَّيْنِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ (یعنی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا واقعہ ہے) انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو چیرا اور اس میں سے جما ہوا خون نکالا اور بولے: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مبارک سونے سے بنے ہوئے طشت میں رکھ کر آب زم زم کے ذریعے دھویا پھر اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی دائی اماں کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا، وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں سیے جانے کا نشان دیکھا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک کو شق کرنے کا واقعہ (پہلی مرتبہ) اس وقت ہوا جب آپ بچے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو آپ کے اندر سے جما ہوا خون نکالا گیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے جانے کا ارادہ کیا تو اس نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا انہوں نے دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو نکال کر دوبارہ اسے دھویا اور پھر اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا، تو ایسا دو مرتبہ ہوا اور دو مختلف موقعوں پر ہوا۔ ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6334
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (61): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6300»
حدیث نمبر: 6335
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي جَهْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ حَلِيمَةَ أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدِيَّةِ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ ، قَالَتْ : " خَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ نَلْتَمِسُ الرُّضَعَاءَ بِمَكَّةَ عَلَى أَتَانٍ لِي قَمْرَاءَ فِي سَنَةٍ شَهْبَاءَ لَمْ تُبْقِ شَيْئًا ، وَمَعِي زَوْجِي ، وَمَعَنَا شَارِفٌ لَنَا ، وَاللَّهِ مَا إِِنْ يَبِضُّ عَلَيْنَا بِقَطْرَةٍ مِنْ لَبَنٍ ، وَمَعِي صَبِيٌّ لِي إِِنْ نَنَامَ لَيْلَتَنَا مِنْ بُكَائِهِ ، مَا فِي ثَدْيَيَّ مَا يُغْنِيهِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ ، لَمْ تَبْقَ مِنَّا امْرَأَةٌ إِِلا عُرِضَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأْبَاهُ ، وَإِِنَّمَا كُنَّا نَرْجُو كَرَامَةَ الرَّضَاعَةِ مِنْ وَالِدِ الْمَوْلُودِ ، وَكَانَ يَتِيمًا ، وَكُنَّا نَقُولُ : يَتِيمًا مَا عَسَى أَنْ تَصْنَعَ أُمُّهُ بِهِ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ صَوَاحِبِي امْرَأَةٌ إِِلا أَخَذَتْ صَبِيًّا غَيْرِي ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَرْجِعَ وَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا وَقَدْ أَخَذَ صَوَاحِبِي ، فَقُلْتُ لِزَوْجِي : وَاللَّهِ لأَرْجِعَنَّ إِِلَى ذَلِكَ الْيَتِيمِ فَلآخُذَنَّهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخَذْتُهُ وَرَجَعْتُ إِِلَى رَحْلِي ، فَقَالَ زَوْجِي : قَدْ أَخَذْتِيهِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ وَاللَّهِ ، وَذَاكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ غَيْرَهُ ، فَقَالَ : قَدْ أَصَبْتِ ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ فِيهِ خَيْرًا ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِِلا أَنْ جَعَلْتُهُ فِي حِجْرِي ، أَقْبَلَ عَلَيْهِ ثَدْيِي بِمَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّبَنِ ، فَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ ، وَشَرِبَ أَخُوهُ ، يَعْنِي : ابْنَهَا ، حَتَّى رَوِيَ ، وَقَامَ زَوْجِي إِِلَى شَارِفِنَا مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِِذَا بِهَا حَافِلٌ فَحَلَبَهَا مِنَ اللَّبَنِ مَا شِئْنَا ، وَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ ، وَشَرِبْتُ حَتَّى رَوِيتُ ، وَبِتْنَا لَيْلَتَنَا تِلْكَ شِبَاعًا رُوَاءً ، وَقَدْ نَامَ صِبْيَانُنَا ، يَقُولُ أَبُوهُ يَعْنِي زَوْجَهَا : وَاللَّهِ يَا حَلِيمَةُ ، مَا أُرَاكِ إِِلا قَدْ أَصَبْتِ نَسَمَةً مُبَارَكَةً ، قَدْ نَامَ صَبِيُّنَا ، وَرَوِيَ ، قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجْنَا ، فَوَاللَّهِ لَخَرَجَتْ أَتَانِي أَمَامَ الرَّكْبِ ، حَتَّى إِِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ : وَيْحَكِ ، كُفَّي عنا ، أَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَتَانِكِ الَّتِي خَرَجْتِ عَلَيْهَا ؟ فَأَقُولُ : بَلَى وَاللَّهِ ، وَهِيَ قُدَّامُنَا ، حَتَّى قَدِمْنَا مَنَازِلَنَا مِنْ حَاضِرِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، فَقَدِمْنَا عَلَى أَجْدَبِ أَرْضِ اللَّهِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ حَلِيمَةَ بِيَدِهِ ، إِِنْ كَانُوا لَيُسَرِّحُونَ أَغْنَامَهُمْ إِِذَا أَصْبَحُوا ، وَيَسْرَحُ رَاعِي غَنَمِي فَتَرُوحُ بِطَانًا لَبَنًا حُفَّلا ، وَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا هَالِكَةً ، مَا لَهَا مِنْ لَبَنٍ ، قَالَتْ : فَنَشْرَبُ مَا شِئْنَا مِنَ اللَّبَنِ ، وَمَا مِنَ الْحَاضِرِ أَحَدٌ يَحْلُبُ قَطْرَةً وَلا يَجِدُهَا ، فَيَقُولُونَ لِرِعَائِهِمْ : وَيْلَكُمْ ، أَلا تَسْرَحُونَ حَيْثُ يَسْرَحُ رَاعِي حَلِيمَةَ ، فَيَسْرَحُونَ فِي الشِّعْبِ الَّذِي تَسْرَحُ فِيهِ ، فَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا مَا بِهَا مِنْ لَبَنٍ ، وَتَرُوحُ غَنَمِي لَبَنًا حُفَّلا ، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِبُّ فِي الْيَوْمِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي شَهْرٍ ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي سَنَةٍ ، فَبَلَغَ سَنَةً وَهُوَ غُلامٌ جَفْرٌ ، قَالَتْ : فَقَدِمْنَا عَلَى أُمِّهِ ، فَقُلْتُ لَهَا ، وَقَالَ لَهَا أَبُوهُ : رُدِّي عَلَيْنَا ابْنِي ، فَلْنَرْجِعْ بِهِ ، فَإِِنَّا نَخْشَى عَلَيْهِ وَبَاءَ مَكَّةَ ، قَالَتْ : وَنَحْنُ أَضَنُّ شَيْءٍ بِهِ مِمَّا رَأَيْنَا مِنْ بَرَكَتِهِ ، قَالَتْ : فَلَمْ نَزَلْ حَتَّى قَالَتِ : ارْجِعَا بِهِ ، فَرَجَعْنَا بِهِ ، فَمَكَثَ عِنْدَنَا شَهْرَيْنِ ، قَالَتْ : فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ وَأَخُوهُ يَوْمًا خَلْفَ الْبُيُوتِ يَرْعَيَانِ بَهْمًا لَنَا ، إِِذْ جَاءَنَا أَخُوهُ يَشْتَدُّ ، فَقَالَ لِي وَلأَبِيهِ : أَدْرِكَا أَخِي الْقُرَشِيَّ ، قَدْ جَاءَهُ رَجُلانِ ، فَأَضْجَعَاهُ وَشَقَّا بَطْنَهُ ، فَخَرَجْنَا نَشْتَدُّ ، فَانْتَهَيْنَا إِِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ مُنْتَقِعٌ لَوْنُهُ ، فَاعْتَنَقَهُ أَبُوهُ وَاعْتَنَقْتُهُ ، ثُمَّ قُلْنَا : مَا لَكَ أَيْ بُنَيَّ ؟ قَالَ : " أَتَانِي رَجُلانِ ، عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ ، فَأَضْجَعَانِي ، ثُمَّ شَقَّا بَطْنِي ، فَوَاللَّهِ ، مَا أَدْرِي مَا صَنَعَا " ، قَالَتْ : فَاحْتَمَلْنَاهُ ، وَرَجَعْنَا بِهِ ، قَالَتْ : يَقُولُ أَبُوهُ : يَا حَلِيمَةُ ، مَا أَرَى هَذَا الْغُلامَ إِِلا قَدْ أُصِيبَ ، فَانْطَلِقِي ، فَلْنَرُدَّهُ إِِلَى أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ بِهِ مَا نَتَخَوَّفُ ، قَالَتْ : فَرَجَعْنَا بِهِ ، فَقَالَتْ : مَا يَرُدُّكُمَا بِهِ ، فَقَدْ كُنْتُمَا حَرِيصَيْنِ عَلَيْهِ ؟ قَالَتْ : فَقُلْتُ : لا وَاللَّهِ ، إِِلا أَنَّا كَفَلْنَاهُ ، وَأَدَّيْنَا الْحَقَّ الَّذِي يَجِبُ عَلَيْنَا ، ثُمَّ تَخَوَّفْنَا الأَحْدَاثَ عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَكُونُ فِي أَهْلِهِ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : وَاللَّهِ ، مَا ذَاكَ بِكُمَا ، فَأَخْبِرَانِي خَبَرَكُمَا وَخَبَرَهُ ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ بِنَا حَتَّى أَخْبَرْنَاهَا خَبَرَهُ ، قَالَتْ : فَتَخَوَّفْتَمَا عَلَيْهِ ! كَلا وَاللَّهِ ، إِِنَّ لابْنِي هَذَا شَأْنًَا ، أَلا أُخْبِرُكُمَا عَنْهُ ؟ إِِنِّي حَمَلْتُ بِهِ ، فَلَمْ أَحْمِلْ حَمْلا قَطُّ كَانَ أَخَفَّ عَلَيَّ وَلا أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ نُورًا كَأَنَّهُ شِهَابٌ خَرَجَ مِنِّي حِينَ وَضَعْتُهُ ، أَضَاءَتْ لَهُ أَعْنَاقُ الإِِبِلِ بِبُصْرَى ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ ، فَمَا وَقَعَ كَمَا يَقَعُ الصِّبْيَانُ ، وَقَعَ وَاضِعًا يَدَهُ بِالأَرْضِ ، رَافِعًا رَأْسَهُ إِِلَى السَّمَاءِ ، دَعَاهُ وَالْحَقَا بِشَأْنِكُمَا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا جَهْمُ بْنُ أَبِي جَهْمٍ نَحْوَهُ . حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ .
عبداللہ بن جعفر سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں: میں بنو سعد بن بکر کی کچھ خواتین کے ہمراہ مکہ آئی تاکہ دودھ پلانے کے لئے کوئی بچہ حاصل کروں میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر آئی تھی جو کہ قحط سالی کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چکی تھی۔ میرے ساتھ میرا شوہر بھی تھا۔ ہمارے ساتھ ہماری ایک اونٹنی بھی تھی اللہ کی قسم! اس کا دودھ بہت کم نکلتا تھا۔ میرے ساتھ میرا چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔ اس کے رونے کی وجہ سے ہم رات کو سو نہیں پاتے تھے کیونکہ میرے سینے میں اتنا دودھ نہیں تھا جو اس کی کفایت کر سکے جب ہم لوگ مکہ آئے تو ہم میں سے ہر عورت کو پیش کش کی گئی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلانے کے لئے لے جائے، لیکن کسی بھی عورت نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ خواتین کو یہ لالچ ہوتا تھا کہ دودھ پلانے کا معاوضہ بچے کے باپ سے وصول کریں گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم تھے ہم لوگ یہ کہا: کرتے تھے۔ کسی یتیم کے بارے میں اس کی ماں کیا کر سکتی ہے۔ میرے ساتھ آنے والی خواتین میں سے ہر ایک نے کوئی نہ کوئی بچہ گود میں لے لیا۔ مجھے یہ بات پسند نہیں تھی کہ میں ایسی حالت میں واپس جاؤں کہ مجھے کوئی بچہ نہ ملا ہو جب کہ میری ساتھی خواتین بچہ لے چکی ہوں۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا: اللہ کی قسم! میں اس یتیم بچے کو لے کر چلی جاؤں گی ہم اے ضرور حاصل کریں گے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئی میں نے آپ کو حاصل کر لیا۔ میں اپنی رہائشی جگہ پر واپس آئی تو میرے شوہر نے کہا: تم نے اسے حاصل کر لیا ہے۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اللہ کی قسم! اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان کے علاوہ اور کوئی بچہ نہیں ملا۔ شوہر نے کہا: تم نے ٹھیک کیا ہے ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں ہمارے لئے کوئی بھلائی رکھ دے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تھے کہ اسی دوران میری چھاتی میں اللہ تعالیٰ نے اتنا دودھ پیدا کر دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور سیر ہو کر پیا۔ آپ کے رضاعی بھائی نے بھی اسے پی لیا یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے نے بھی اسے پی لیا، یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہو گیا۔ رات کے وقت میرا شوہر ہماری اونٹنی کے پاس گیا تو اس کا بھی دودھ اترا ہوا تھا۔ میرے شوہر نے اس کا اتنا دودھ دوہ لیا جتنا ہم چاہتے تھے۔ اس نے پیا اور سیر ہو کر پیا میں نے بھی پیا اور سیر ہو گئی۔ اس رات ہم نے پیٹ بھر کر اور سیر ہو کر رات گزاری۔ ہمارے بچے بھی سوتے رہے۔ بچے کے باپ یعنی سیدہ حلیمہ کے شوہر نے کہا: اللہ کی قسم! اے حلیمہ میرا یہ خیال ہے کہ تمہیں ایک مبارک وجود ملا ہے۔ ہمارے بچے آرام سے سو رہے ہیں اور وہ سیر ہیں۔ سیدہ حلیمہ بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے اللہ کی قسم! میری گدھی سب سے زیادہ آگے چل رہی تھی، یہاں تک کہ میرے ساتھی یہ کہتے تھے کہ تمہارا ستیاناس ہو تم اس کو آرام سے لے کر چلو، کیا یہ تمہاری وہی گدھی نہیں ہے، جس پر سوار ہو کر تم آئی تھی، تو میں جواب دیتی جی ہاں اللہ کی قسم! (وہی ہے) لیکن وہ بدستور آگے چلتی رہی، یہاں تک کہ ہم بنو سعد بن بکر کے علاقے میں اپنے گھر آ گئے۔ ہم ایک ایسی جگہ پر آئے تھے جو سب سے زیادہ خشک تھی۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں حلیمہ کی جان ہے دوسرے لوگ صبح کے وقت اپنی بکریوں کو چرنے کے لئے بھیج دیتے تھے اور میری بکریوں کا چرواہا بھی میری بکریاں لے جاتا تھا، تو میری بکریاں جب شام کو واپس آتی تھیں، تو دودھ سے بھری ہوئی ہوتی تھیں جبکہ ان کی بکریاں جب واپس آتی تھیں، تو بھوکی ہوتی تھیں۔ ہلاکت کے قریب ہوتی تھیں ان میں دودھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ سیدہ حلیمہ بیان کرتی ہیں۔ ہم جتنا چاہتے تھے دودھ پی لیتے تھے جبکہ باقی قبیلے میں کسی کو ایک قطرہ بھی دودھ دوہنے کے لئے اور پینے کے لئے نہیں ملتا تھا، تو وہ لوگ اپنے چرواہوں سے یہ کہتے تھے تمہارا ستیاناس ہو، کیا تم اپنی بکریاں اس جگہ نہیں چراتے جہاں حلیمہ کا چرواہا چراتا ہے، پھر وہ لوگ بھی اپنی بکریاں اسی گھاٹی میں چراتے تھے جس میں میری بکریاں چرتی تھیں، لیکن اس کے باوجود ان کی بکریاں بھوکی آتی تھیں۔ ان میں دودھ نہیں ہوتا تھا؟ جبکہ میری بکریاں دودھ سے بھری ہوئی آتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نشوونما ایک دن میں اتنی ہو رہی تھی جتنی کسی عام بچے کی ایک مہینے میں ہوتی ہے اور آپ کی نشوونما ایک ماہ میں اتنی ہو گئی جتنی کسی بچے کی ایک سال میں ہوتی ہے، جب آپ کی عمر ایک سال ہوئی، تو آپ بھرپور صحت مند لگتے تھے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کی خدمت میں آئے۔ میں نے ان سے یہ درخواست کی اور میرے شوہر نے بھی ان سے یہ درخواست کی کہ آپ اس بچے کو ہمیں دیدیں تاکہ ہم اسے واپس لے جائیں کیونکہ ہمیں اس کے بارے میں یہ اندیشہ ہے کہ یہ مکہ میں وباء کا شکار نہ ہو جائے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو برکت دیکھی تھی۔ ہمیں اس کا لالچ تھا تو ہم مسلسل ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے یہ فرمایا: تم اسے ساتھ لے جاؤ۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر واپس آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ماہ ہمارے پاس ٹھہرے رہے۔ ایک مرتبہ آپ اپنے بھائی کے ساتھ گھروں کے پیچھے کھیل رہے تھے وہ دونوں ہماری بکری کے بچے کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی تیزی سے دوڑتا ہوا ہمارے پاس آیا اور مجھ سے اور اپنے والد سے بولا: میرے قریشی بھائی کے پاس جائیں۔ اس کے پاس دو آدمی آئے ہیں انہوں نے اسے لٹا دیا ہے اور اس کا پیٹ چیر دیا ہے۔ (سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) ہم لوگ دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کھڑے ہوئے تھے۔ آپ کے چہرے کی رنگت تبدیل تھی۔ آپ کے والد نے آپ کو گلے سے لگا لیا۔ میں نے بھی آپ کو گلے سے لگا لیا پھر ہم نے دریافت کیا: اے میرے بیٹے تمہیں کیا ہوا ہے۔ آپ نے بتایا میرے پاس دو آدمی آئے۔ انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے لٹا لیا پھر انہوں نے میرے پیٹ کو چیر دیا۔ اللہ کی قسم! مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ انہوں نے کیا کیا۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ ہم نے آپ کو گود میں اٹھا لیا اور آپ کو لے کر واپس آ گئے، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ آپ کے رضاعی والد نے کہا: اے حلیمہ مجھے لگتا ہے اس لڑکے کے ساتھ کوئی نہ کوئی خاص معاملہ ہے تم چلو ہم اسے اس کے گھر والوں کے سپرد کر آتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ اس کی طرف سے کوئی ایسی صورت حال سامنے آئے جس کا ہمیں اندیشہ ہے، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ہم آپ کو لے کر واپس آئے تو سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا تم لوگ اسے واپس لے کر کیوں آ گئے ہو، تم تو اسے اپنے پاس رکھنا چاہ رہے تھے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نے عرض کی: جی نہیں اللہ کی قسم! ہم نے اس کی کفالت کر لی ہے اور ہمارے ذمے جو حق لازم تھا وہ ہم نے ادا کر دیا ہے پھر ہمیں اس کے بعد کسی مشکل پیش آنے کا اندیشہ ہوا (تو ہم نے یہ سوچا کہ یہ اپنے گھر میں ہی ٹھیک رہے گا۔) سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ اللہ کی قسم! تم دونوں مجھے بتاؤ۔ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا مسلسل ہمارے ساتھ اصرار کرتی رہیں، یہاں تک کہ ہم نے انہیں اصل واقعہ بتا دیا۔ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: کیا تمہیں اس کے بارے میں خوف ہے۔ ہرگز نہیں میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہو گی میں تمہیں اس بارے میں بتاتی ہوں جب مجھے اس کا حمل ہوا تو مجھے حمل کی کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوئی۔ یہ میرے لئے انتہائی آسان اور زیادہ برکت والی صورت حال تھی، پھر مجھے ایک نور دکھائی دیا جو انتہائی چمکدار تھا، جب میں نے اسے جنم دیا تو وہ نور میرے اندر سے نکلا اور اس نور کی وجہ سے بصریٰ میں موجود اونٹوں کی گردنیں میرے سامنے روشن ہو گئی (یعنی مجھے نظر آنے لگی) پھر میں نے اسے جنم دیا تو یہ اس طرح باہر نہیں آیا جس طرح عام طور پر بچے باہر آتے ہیں بلکہ جب یہ باہر آیا تو اس نے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور دعا مانگی، تو تم (اس واقعہ کو) اپنے والے واقعے کے ساتھ ملا کر دیکھ لو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہب بن جریر نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نے بھی یہ روایت اپنی سند کے ساتھ نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6335
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر التعليق. * [أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى] قال الشيخ: هو الحافظ أبو يعلى الموصلي، وقد أخرجه في «مسنده» (13/ 93 / 7163) ... بإسناده ومتنه هنا، وصرَّح ابن إسحاق بالتحديث في «سيرة ابن هشام» (1/ 172)، لكنَّه شكَّ فقال: عن عبد الله بن جعفر بن أبي طالب، أو عَمَّن حدَّثه عنه، قال ... ؛ فذكره. فلم تَطمئن النفسُ لاتصاله، ولا سيَّما وجهمٌ هذا مجهول الحال؛ لم يُوَثِّقْهُ غير ابن حبان (4/ 113)، وقال الذهبي في «الميزان» وغيره: «لا يُعرف». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط في سنده انقطاع
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6301»
حدیث نمبر: 6336
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصَّبيانِ ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ قَلْبَهُ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : " هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ ، فَجَاءَهُ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِِلَى أُمِّهِ ، يَعْنِي : ظِئْرَهُ ، فَقَالَ : إِِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ مُنْتَقِعَ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ : كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کی بات ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا آپ کو لٹایا۔ آپ کے قلب مبارک کو چیر دیا۔ اس میں سے کوئی لوتھرا نکالا اور بولے: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا، پھر انہوں نے سونے کے بنے ہوئے طشت میں آب زم زم کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو دھویا اور پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ یعنی دائی ماں کے پاس آئے اور بولے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کے چہرے کی رنگت بدلی ہوئی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں اس سینے کا نشان میں نے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6336
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى قريباً (6300). تنبيه!! رقم (6300) = (6334) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6302»