کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف ابراہیم نے اعمش سے بیان کی
حدیث نمبر: 6331
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ : " ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِِلَى الشَّامِ ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا ، فَقَعَدَ إِِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " ، قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : " أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ حُذَيْفَةُ ؟ أَلَيْسَ فِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْطَانِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ؟ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السَّوَادِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ؟ ، وَقَالَ : كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى سورة الليل آية 1 - 2 " ، فَقُلْتُ : وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى ، قَالَ : " فَمَا زَالَ هَؤُلاءِ كَادُوا يُشَكِّكُونِي وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابراہیم بیان کرتے ہیں: علقمہ شام گئے وہ وہاں مسجد میں آئے وہاں انہوں نے دو رکعات ادا کی پھر دعا کی: اے اللہ! مجھے نیک ہم نشین عطا کر پھر وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو، انہوں نے جواب دیا: کوفہ سے انہوں نے دریافت کیا: کیا تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص راز دان موجود نہیں ہیں کہ اس راز کا ان کے علاوہ کسی کو پتا نہیں ہوتا تھا اور وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ کیا تمہارے درمیان وہ صاحب موجود نہیں ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زبانی شیطان سے محفوظ قرار دیا اور وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں۔ کیا تمہارے درمیان سیاہی والے شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہیں ہیں۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تم یہ آیت کیسے پڑھتے ہو: «و اللیل إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى»، میں نے کہا: «وَالذَّكَرِ وَالْاُنْثٰى» سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ مسلسل مجھے اس بارے میں شبہ کا شکار کرتے رہے ہیں حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی خود یہ آیت (اسی طرح) سنی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6331
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري رجاله ثقات رجال الشيخين غير حفص بن عمر الحوضي فمن رجال البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6297»