کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے "والليل إذا يغشى والنهار إذا تجلى" پڑھا
حدیث نمبر: 6330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ الشَّامَ ، فَأُخْبِرَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَأَتَانَا ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَقْرَأُ عَلَيَّ قِرَاءَةَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ؟ " ، قَالَ : قُلْنَا : كُلُّنَا نَقْرَأُ ، قَالَ : " أَيُّكُمْ أَقْرَأُ ؟ " ، قَالَ : فَأَشَارَ أَصْحَابِي إِِلَيَّ ، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " أَحَفِظْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1 ؟ " ، قُلْتُ : وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى سورة الليل آية 1 - 3 ، فَقَالَ : " أَنْتَ حَفِظْتُهَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَأَنَا وَالَّذِي لا إِِلَهَ غَيْرُهُ هَكَذَا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَؤُلاءِ يُرِيدُونَ وَاللَّهِ لا أُتَابِعُهُمْ أَبَدًا " .
علقمہ بیان کرتے ہیں: میں شام آیا سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے تو انہوں نے دریافت کیا: تم میں سے کون شخص میرے سامنے ” ابن ام عبد “ کے طریقے کے مطابق تلاوت کر سکتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے جواب دیا: ہم سب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا تم میں قرأت کا سب سے زیادہ علم کس کو ہے؟ راوی کہتے ہیں: میرے ساتھیوں نے میری طرف اشارہ کیا۔ سیدنا ابودرداء نے دریافت کیا تمہیں یاد ہے، میں نے جواب دیا: جی ہاں انہوں نے دریافت کیا سیدنا عبداللہ سورۃ اللیل کیسے پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: یوں پڑھتے تھے: «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشٰى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلّٰى وَالذَّكَرِ وَالْأُنثٰى» انہوں نے فرمایا: کیا تمہیں یہ الفاظ سیدنا عبداللہ کی زبانی یاد ہیں۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ میں نے بھی یہ الفاظ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سیکھے ہیں، لیکن یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں (دوسرے الفاظ کے ذریعے تلاوت کروں) اللہ کی قسم! میں تو ان کی بات کبھی نہیں مانوں گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6330
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4943 و 4944)، م (2/ 206). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6296»