کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6328
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا يَسْأَلُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ النَّاسَ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ ، كَيْفَ " تُقْرَأُ : فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 ، دَالا أَوْ ذَالا ؟ فَقَالَ : بَلْ دَالا " ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 ، دَالا " .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو اسود بن یزید سے سوال کرتے ہوئے سنا وہ اس وقت مسجد میں قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ (سوال یہ تھا) آپ یہ آیت کیسے پڑھتے ہیں؟ « فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ » اس میں دال پڑھتے ہیں یا ذال پڑھتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: دال پڑھتا ہوں کیونکہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ» تلاوت کی یعنی دال کے ساتھ پڑھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6328
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الترمذي» (3119): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6294»