کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں پر قرآن پڑھا
حدیث نمبر: 6319
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بِتُّ اللَّيْلَةَ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنِّ رُفَقَاءَ بِالْحَجُونِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بِتُّ اللَّيْلَةَ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنِّ " ، بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّهُ لَمْ يَشْهَدْ لَيْلَةَ الْجِنِّ ، إِِذْ لَوْ كَانَ شَاهِدًا لَيْلَتَئِذٍ ، لَمْ يَكُنْ بِحِكَايَتِهِ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَتُهُ عَلَى الْجِنِّ مَعْنًى ، وَلأَخْبَرَ أَنَّهُ شَهِدَهُ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ” میں نے گزشتہ رات حجون کے مقام پر کچھ جنات کے سامنے تلاوت کی جو ایک دوسرے کے ساتھی تھے۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” گزشتہ رات میں نے جنوں کے سامنے تلاوت کی۔ “ یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس رات موجود نہیں تھے۔ اگر وہ اس رات موجود ہوتے تو وہ اس واقعے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکایت کے طور پر نقل نہ کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سامنے تلاوت کی تھی بلکہ وہ اس بات کی اطلاع دیتے کہ وہ اس وقت وہاں موجود تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سامنے تلاوت کی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” گزشتہ رات میں نے جنوں کے سامنے تلاوت کی۔ “ یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس رات موجود نہیں تھے۔ اگر وہ اس رات موجود ہوتے تو وہ اس واقعے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حکایت کے طور پر نقل نہ کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سامنے تلاوت کی تھی بلکہ وہ اس بات کی اطلاع دیتے کہ وہ اس وقت وہاں موجود تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سامنے تلاوت کی تھی۔