کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوات کی تعداد
حدیث نمبر: 6283
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِِسْحَاقَ ، قَالَ : خَرَجَ النَّاسُ يَسْتَسْقُونَ وَفِيهِمْ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِِلا رَجُلٌ ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ غَزَا ؟ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ : يَا أَبَا عَمْرٍو ، " كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : تِسْعَ عَشْرَةَ " ، قُلْتُ : كَمْ غَزَوْتَ مَعَهُ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَةَ . قُلْتُ : " مَا أَوَّلُ مَا غَزَا ؟ قَالَ : ذُو الْعُشَيْرَةِ أَوِ الْعُسَيْرَةِ " ، فَصَلَّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ .
ابواسحاق بیان کرتے ہیں: لوگ نماز استسقاء ادا کرنے کے لئے نکلے۔ ان میں سیدنا زید بن ارقم بھی تھے۔ میرے اور ان کے درمیان صرف ایک شخص تھا میں نے دریافت کیا آپ نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے۔ یہاں ابن کثیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔ اے ابوعمرو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: 19 غزوات میں۔ میں نے دریافت کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: سترہ (17) میں۔ میں نے دریافت کیا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا۔ انہوں نے بتایا ذوعشرہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) عسیرہ۔ پھر عبداللہ بن زید نے لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی۔ ّ
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6283
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4404)، م (4/ 60). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6250»