کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق رضی اللہ عنہ پر غار میں قیام کے دنوں میں کیا گزرتی تھی
حدیث نمبر: 6279
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخُرُوجِ مِنْ مَكَّةَ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الأَمْرُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اصْبِرْ " ، فَقَالُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِِنِّي لأَرْجُو " ، فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ظُهْرًا ، فَنَادَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ؟ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصُّحْبَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّحْبَةُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِنْدِي نَاقَتَانِ قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ ، قَالَتْ : فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ ، فَرَكِبَا حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ وَهُوَ بِثَوْرٍ ، فَتَوَارَيَا فِيهِ ، وَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ غُلامًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لأُمِّهَا ، وَكَانَ لأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْحَةٌ ، فَكَانَ يَرُوحُ بِهَا وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ ، وَيُصْبِحُ ، فَيَدَّلِجُ إِِلَيْهِمَا ، ثُمَّ يَسْرَحُ ، فَلا يَفْطِنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّعَاءِ ، فَلَمَّا خَرَجَا ، خَرَجَ مَعْهُمَا يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ سے چلے جانے کی اجازت مانگی۔ جب حالات خراب ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم صبر سے کام لو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا آپ کو یہ توقع ہے کہ آپ کو بھی اجازت مل جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے فرمایا اپنے پاس موجود لوگوں کو باہر نکال دو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! صرف میری دو بیٹیاں یہاں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ چلا کہ مجھے روانگی (ہجرت) کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا میں آپ کے ساتھ رہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ساتھ رہو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں۔ میں نے انہیں روانگی کے لئے تیار کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں سے ایک اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدی۔ وہ جدعاء تھی۔ یہ دونوں حضرات اس پر سوار ہو کر ایک غار میں آ گئے، جو ثور نامی پہاڑ میں تھا۔ دونوں حضرات اس میں چھپ گئے۔ عبداللہ بن طفیل کا غلام عامر بن فہیرہ جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ کی طرف سے بھائی تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زیر احسان تھا، تو چرواہوں میں سے کسی کو اس بارے میں اندازہ نہیں ہو سکا وہ صبح ان حضرات کے پاس جاتا، شام کو مکہ آ جاتا اور پھر رات کے آخری حصے میں ان حضرات کے پاس آ جاتا۔ جب یہ دونوں حضرات وہاں سے روانہ ہوئے تو وہ بھی ان دونوں کے ہمراہ تیزی سے چلتا ہوا آیا، یہاں تک کہ یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔