کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور وہاں کے حالات کے بیان میں ایک فصل -
حدیث نمبر: 6275
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِِلَى أَرْضِ نَخْلٍ ، فَذَهَبَ وَهْلِي أَنَّهَا الْيَمَامَةُ ، أَوْ هَجَرُ ، فَإِِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ ، وَرَأَيْتُ فِيَ رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ ، فَإِِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ، ثُمَّ هَزَزْتُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ ، فَإِِذَا هُوَ مَا جَدَّدَ اللَّهُ مِنَ الْمَغْنَمِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں نے خواب میں دیکھا میں مکہ سے ہجرت کر کے کھجوروں کی سرزمین کی طرف جا رہا ہوں۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ وہ یمامہ یا ہجر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ مدینہ تھا یعنی یثرب تھا اور میں نے خواب میں دیکھا میں نے تلوار لہرائی تو وہ ٹوٹ گئی۔ اس سے مراد غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں کو لاحق ہونے والا نقصان ہے پھر میں نے دوسری مرتبہ تلوار لہرائی تو وہ پہلے سے زیادہ اچھی صورت میں آ گئی۔ اس سے مراد وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ مال غنیمت کی شکل میں عطا کرے گا اور اہل ایمان کا اجتماع (یعنی ان کی تعداد کا زیادہ ہونا) مراد ہے۔ ْ
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب التاريخ / حدیث: 6275
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر البخاري» (المناقب / علامات النبوة). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 6242»